نئی دہلی، (یواین آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مجرم ابو سالم کی قبل از وقت رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اس کے اس دعوے پر وضاحت طلب کی کہ اس نے پہلے ہی 25 سال کی قید کی سزا پوری کر لی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے سالم سے کہا کہ وہ اپنی سزا کے حساب کو درست ثابت کرے اور مہاراشٹر ریاست کے متعلقہ قوانین کو ریکارڈ پر رکھے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیاں (ٹاڈا) ایکٹ کے تحت سزا پانے والے مجرم کو رعایت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ بنچ نے سالم کے وکیل سے پوچھاکہ آپ 2005 سے 25 سال کی سزا کا حساب کیسے کرتے ہیں” جب یہ بتایا گیا کہ سالم نے پرتگال سے اپنے حوالگی کے دوران دیے گئے وعدے کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا پوری کر لی ہے۔ ابو سالم کو 11 نومبر 2005 کو پرتگال سے ایک طویل قانونی عمل کے بعد حوالگی کے ذریعے ہندوستان لایا گیا تھا۔ اس وقت ہندوستان نے پرتگالی حکام کو یقین دلایا تھا کہ پرتگال کے ملکی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اسے نہ تو موت کی سزا دی جائے گی اور نہ ہی 25 سال سے زیادہ جیل میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد جون 2017 میں سالم کو 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں ایک خصوصی ٹاڈا عدالت نے مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی۔ اس سے پہلے سالم نے حوالگی کے وعدے کے تحت قبل از وقت رہائی کے لیے بامبے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا اور یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس نے ابھی تک بین الاقوامی عہد کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے مقررہ 25 سال کی سزا پوری نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے "ابو سالم بنام ریاست مہاراشٹر (2022)” میں اپنے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ سالم کی قید کی مدت 25 سال سے زیادہ نہیں ہوگی، جس کی گنتی 11 نومبر 2005 کو ہندوستان میں اس کی حوالگی کی تاریخ سے ہوگی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ پرتگال کو دیے گئے وعدے کا احترام کرنے کے لیے ہندوستان حکومت سالم کو 25 سال کی حراست پوری ہونے پر رہا کرنے کی پابند ہے۔ عدالت نے مزید ہدایت دی تھی کہ مرکزی حکومت ہندوستان کے صدر کو یہ مشورہ دے کہ وہ مذکورہ مدت پوری ہونے پر آئین کے آرٹیکل 72 کے تحت اختیارات کا استعمال کرے۔ سالم کی طرف سے پیش ہوئے وکیل رشی ملہوترا نے دلیل دی تھی کہ پرتگالی قانون کے تحت عمر قید یا 25 سال سے زیادہ کی سزا غیر قانونی ہے، اور اس لیے ہندوستان کا دیا گیا وعدہ ماننا ضروری ہے۔ سالم کو 18 ستمبر 2002 کو پرتگال میں اداکارہ مونیکا بیدی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ پردیپ جین قتل کیس، 1993 کے بمبئی بم دھماکے کیس اور اجیت دیوانی قتل کیس کے سلسلے میں حوالگی کی اجازت دی گئی تھی۔ 11 نومبر 2005 کو ہندوستان آنے پر سالم کو سی بی آئی نے بم دھماکے کیس میں گرفتار کیا اور بعد میں ممبئی انسداد دہشت گردی دستے نے پردیپ جین قتل کیس میں حراست میں لے لیا۔












