نئی دہلی، 7 مارچ (یو این آئی) حج کمیٹی آف انڈیاکی تشکیل کے سلسلے میں آج ایک بار پھر عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے اب تک کی اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی رپورٹ حلف نامے کے ذریعہ اگلی سماعت سے پہلے عدالت عظمیٰ میں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ یہ بات آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی گئی ہے ۔حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کی طرف سے داخل عدالت عظمیٰ کی حکم عدولی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی 3 رکنی بنچ نے سماعت کے دورا ن یہ ہدایت جاری کی،سرکاری سینیئر وکیل کے نٹراج نے عدالت عظمیٰ سے زبانی طور پر کہا کہ حکومت اس سلسلے میں کام کررہی ہے اور جلد کمیٹی بن جائے گی مسٹر اعظمی کے وکلا سنجے آر ہیگڑے اور طلحہ عبدالرحمٰن نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ 27 مار چ 2023 کا فیصلہ ہوا ہے اور آج تک اس پہ کوئی عمل نہیں ہوااور حکم عدولی کی درخواست ہمیں دینی پڑی اور اس سے بھی آج تیسری بار سماعت ہورہی ہے اس لیے عدالت عظمیٰ اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سنجیدگی سے غور کرے اور مئی میں حاجیوں کی پرواز ہورہی ہے اور حج کمیٹی ہی حاجیوں کی نمائندہ ہے ملک کے حاجیوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ واضح رہے کہ 25 جنوری کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 6 ہفتہ کے اندر کمیٹی کی پوری طرح تشکیل کرکے 7 مار چ تک جواب داخل کرے ۔فریقین کی بحث سننے کے بعد چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگلی سماعت کے پہلے حلف نامہ کے ذریعہ یہ سب کچھ بتائیں کہ اب تک اس سلسلے میں حکومت نے کیا کیا ہے ۔عرضی داخل کرنے والے حافظ نوشاد احمد اعظمی نے بہت افسوس کے ساتھ کہا کہ عدالت عظمیٰ کے بار بار ہدایت کے باوجود مرکزی حکومت نے ابتک اس پر عمل نہیں کیا۔ یہ آئین اور قانون کا حکومت کے ذریعہ مذاق اڑا یا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ناانصافی کے خلاف قانون حج ایکٹ 2002 کو لا گو کرنے کے لیے اکتوبر 2021 سے میں سپریم کورٹ کے دروازے پر لگاتار دستک دے رہاہوں اور کم از کم اس حکم عدولی کے درخواست سمیت 13 بار اس مقدمہ کی سماعت ہوچکی ہے اور ابھی تک اس پر مکمل طور پر عمل نہیں ہوا ہے ۔جس سے عازمین حج کا یہ ادارہ حکومت کے شاہی فرمان کی طرح چل رہا ہے اور عازمین کے مسائل کے ساتھ ساتھ بہت سے مسائل جنھیں حج کمیٹی حل کرتی وہ نہیں ہو رہا ہے ۔ انھوں نے اپنے وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملہ میں سنجیدہ رہے اور عدالت عظمیٰ کے سامنے بار بار یہ مقدمہ پیش کیا اور ہدایات جاری ہوتی رہیں ۔












