حاجی پور(محمد آصف عطا) : اساتذہ کے حقوق،عزت و وقار اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے پریورتن کاری پرارمبھک شکچھک سنگھ ضلع اکائی ویشالی کی جانب سے 26 دسمبر 2025 سے مجوزہ دھرنا اور تاحیات بھوک ہڑتال کے پروگرام کو ضلع تعلیمی محکمہ کے افسران کے ساتھ ہونے والی مثبت،سنجیدہ اور خوشگوار گفت و شنید کے بعد فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ سنگھ نے اساتذہ کے مفاد میں ضلع تعلیمی محکمہ کی جانب سے دیے گئے یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے لیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ یونین کی جانب سے تاحیات بھوک ہڑتال کے اعلان کے بعد ضلع تعلیمی افسر ویشالی نے مسائل کے حل کے لیے ٹیلی فونک دعوت دی۔اسی سلسلے میں 24 دسمبر 2025 کو دیر شام تک سنگھ کے صوبائی صدر اور تیرہوت گریجویٹ حلقہ کے معزز قانون ساز کونسلر جناب ونشی دھر برجواسی جی کی قیادت میں شنگھ کے وفد نے ضلع تعلیمی افسر اور ضلع پروگرام افسر (اسٹیبلشمنٹ) کے ساتھ طویل،سنجیدہ اور حقائق پر مبنی مذاکرات کیے۔مذاکرات کے دوران اساتذہ کے برسوں سے زیرِ التوا مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بالخصوص مخصوص اساتذہ کے بقایا فرقِ تنخواہ کی ادائیگی کے معاملے پر ڈی پی او (اسٹیبلشمنٹ) نے مذاکرات کے دوران ہی کیمپ لگا کر تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنانے سے متعلق خط جاری کیا۔جسے سنگھ نے ایک مثبت اقدام قرار دیا۔اس کے ساتھ ہی انتظامیہ کی جانب سے سنگھ کے تمام مطالبات ایک ہفتے کے اندر پورے کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کرائی گئی۔سنگھ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ التوا کوئی کمزوری نہیں بلکہ مکالمے اور حل پر یقین کی علامت ہے۔ اگر مقررہ ایک ہفتے کی مدت میں مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوا تو یونین دوبارہ دھرنا اور تاحیات بھوک ہڑتال جیسے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی۔جس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم پر ہوگی۔اس اہم مذاکرات میں یونین کے وفد میں ضلع صدر دنیش پاسوان،ضلع سینئر سکریٹری نوینیت کمار،ضلع خزانچی اندر دیو مہتو، ضلع سکریٹری ناگ منی،سہدئی بلاک صدر بی کے شِو پرساد،حاجی پور بلاک صدر راجو رنجن چودھری،لال گنج بلاک صدر وکاس روشن،کمیٹی کے رکن اروِند کیجریوال،راکیش کمار اور آزاد شامل تھے۔اس موقع پر معزز قانون ساز کونسلر جناب ونشی دھر برجواسی نے جذباتی انداز میں کہا کہ اساتذہ کسی بھی سماج کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔وہ بچوں کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج وہی اساتذہ اپنی تنخواہوں، الاؤنسز اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار حکومت اور محکمۂ تعلیم کی واضح ہدایات کے باوجود فرقِ تنخواہ کی ادائیگی اور تنخواہ فکسیشن کا کام وقت پر نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر محکمۂ تعلیم کے چیف سکریٹری کو ضلع کی حقیقی صورتحال سے مختلف معلومات دی گئیں۔جس کی وجہ سے مسائل کا حل مزید تاخیر کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو غیر ضروری طور پر الجھانے کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ اساتذہ اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ دفاتر کے چکر لگانا۔سنگھ کے ضلع صدر دنیش پاسوان نے کہا کہ پریورتن کاری پرارمبھک شکچھک سنگھ ہمیشہ مکالمے،جمہوری عمل اور مثبت حل کے حق میں رہی ہے۔ضلع تعلیمی محکمہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے احترام میں ہی دھرنا مؤخر کیا گیا ہے لیکن اگر یہ یقین دہانیاں صرف کاغذات تک محدود رہیں تو یونین خاموش نہیں بیٹھے گی۔وہیں ضلع سینئر سکریٹری نوینیت کمار نے کہا کہ برسوں سے زیرِ التوا مسائل نے اساتذہ کو ذہنی، مالی اور خاندانی طور پر توڑ دیا ہے۔سنگھ کو امید ہے کہ محکمہ اپنے وعدے پر پورا اترے گا۔ مخصوص اساتذہ کے فرقِ تنخواہ کی ادائیگی کے لیے ڈی پی او اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کیمپ لگانے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ فیصلہ صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی سطح پر بھی نظر آئے۔












