حیدرآباد ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:حیدر آباد کے معروف ادارے سینٹر فار ایکسیلنس ان ٹریننگ انوویشن (سی ای ٹی آئی) کے زیر اہتمام تلنگانہ میڈیا اکیڈمی میں اردو صحافیوں کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب منعقد کی گئی۔ سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن نے دکن کے معروف صحافی نسیم عارفی (مرحوم) کی یاد میں ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جس میں ملک بھر سے پانچ صحافیوںکو یہ ایوارڈ پیش کئے جاتے ہیں۔ ان میںدو تلنگانہ ریاست سے اور دو ایوارڈ قومی سطح کے صحافیوں کو اور ایک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈشامل ہیں۔ ایوارڈ یافتگان کے ناموں کا انتخاب باضابطہ ایک جیوری کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اس جیوری میں پروگرام کے مہمان خصوصی معروف ڈپلومیٹ سابق سفیر ڈاکٹر اوصاف سعید بھی شامل ہیں۔اس مرتبہ قومی سطح کے زمرے میں روزنامہ انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری اور آزاد صحافی روہنی سنگھ کو یہ ایوارڈ دیاگیا۔ جبکہ تلنگانہ سے فوٹو جرنلسٹ محمد علیم الدین اور محمد فضل بیگ کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سینر صحافی اور کالم نگار معصوم مرادآبادی کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ اردو زبان کی آواز ہمیشہ بلند رہی ہے اوراردو صحافت نے بڑی ایماندارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی خدمات انجامدی ہیں۔اوصاف سعید نے اپنے کلیدی خطبہ میں مزید کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان صحافیوں کی قدر کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کو مزید آگے بڑھانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جو ایوارڈ دیے گئے ہیں درحقیقت ان کو یہ ایوارڈ نہیں ،بلکہ ایک حد تک ان کا قرض اتارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نسیم عارفی کی خدمات کویاد کرتےہوئے کہا کہ نسیم عارفی نے اردو صحافت کو بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے چیئر مینسید بشارت علینے تمام ایوارڈ یافتگان اور مہمانان کاخیر مقدم کیا ۔ میڈیا اکیڈیمی آف تلنگانہ کے چیئرمین سرینواس ریڈی نے کہا کہ اردو صحافت میں عابد علی خاں اور نسیم عارفی یادگار شخصیات ہیں، جنہوں نے اردو صحافت کو بام عروج پر پہنچایا۔ ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر عامر اللہ خان نے اس تقریب کی کار وائی چلائی اور نسیم عارفی کی صحافتی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نسیم عارفی نے ہمیشہ عوامی مفادات کا خاص پاس و لحاظ رکھا ان کی صحافتی خدمات تا دیر بھلائی نہیں جائیں گی۔ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری نے کہا کہ یہ ایوارڈ ہمارے لیے ایوارڈ نہیں ، بلکہ صحافتی خدمات کی حوصلہ افزائی ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اب ہماری صحافتی خدمات کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔پروفیسر احتشام احمد خان نے کہا کہ اردو صحافیوں کی خدمات کا اعتراف وقت کا تقاضہ ہے اور اسی ضرورت کو اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاؤنڈیشن کے صدر سید بشارت علی نے بیڑ ہ اٹھایا ہے۔سینئر صحافی و سابق رکن پریس کونسل آف انڈیاایم اے ماجد نے اس تقریب کی کاروائی چلائی اور تمام مقامی و بیرونی مہمان مقررین کے علاوہ سامعین کا دلی شکریہ ادا کیا اور ایوارڈ پانے والے تمام صحافیوں کو دلی مبارکباد بھی پیش کی۔ اس موقع پر معروف سائنس داں پروفیسر حسنین ،سید امین الحسن جعفری، عزیز احمد،عمر دراز خان، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز ،جعفر حسین ، محمد صادق اور محمد سعید الدین سینئرفوٹو جرنلسٹ کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ان معززین کی صحافتی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔












