تمل ناڈو کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فلم اور حقیقت کے درمیان فرق تقریباً ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کل تک جس شخص کو لوگ سنیما کے پردے پر عوام کا مسیحا سمجھتے تھے، آج وہی شخص حقیقی سیاست میں اقتدار کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔جی ہاں، بات ہورہی ہے جنوبی ہند کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی، جنہوں نے صرف دو برس پہلے سیاست میں قدم رکھا اور آج ریاست کے وزیراعلیٰ بننے کے سب سے مضبوط دعوے دار بن چکے ہیں۔2026 کے اسمبلی انتخابات میں وجے کی جماعت تملگا ویتری کڑگم (TVK) نے 234 میں سے 107 نشستیں جیت کر پورے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔اگرچہ اکثریت کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت ہے، مگر پہلی ہی بار میں 107 سیٹیں حاصل کرنا سیاسی ماہرین کے مطابق جنوبی ہند کی سیاست کا سب سے بڑا سیاسی دھماکہ ہے۔
وجے صرف ایک اداکار نہیں تھے، بلکہ جنوبی ہندوستان میں ایک جذباتی لہر کا نام تھے۔ان کی فلمیں صرف باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ عوامی جذبات کی نمائندہ سمجھی جاتی تھیں۔
ان کے فلمی کردار اکثر:کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف آواز اٹھاتے،غریبوں کے حق میں لڑتے،اور ظالم نظام کو چیلنج کرتے نظر آتے تھے۔شاید یہی وجہ تھی کہ وقت کے ساتھ لوگ ان کے اندر ایک سیاسی لیڈر بھی دیکھنے لگے تھے۔ان کے مداحوں کی تنظیم وجے مکل ایئکم برسوں سے ریاست کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھی۔
فروری 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی جماعت تملگا ویتری کڑگم کے قیام کا اعلان کیا۔اس اعلان کے بعد پورے ملک میں بحث چھڑ گئی۔کسی نے کہا یہ صرف فلمی مقبولیت کو ووٹ میں بدلنے کی کوشش ہے، تو کسی نے دعویٰ کیا کہ وجے زیادہ دن سیاست میں نہیں چل سکیں گے۔لیکن وجے نے خاموشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی تیار کی۔
انہوں نے : بوتھ سطح تک تنظیم بنائی،نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑا،سوشل میڈیا کو ہتھیار بنایا،اور خود کو نئے سیاسی متبادل کے طور پر پیش کیا۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ وجے نے نہ DMK سے اتحاد کیا، نہ AIADMK سے، اور نہ ہی بی جے پی کا سہارا لیا۔انہوں نے اکیلے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
2026 کے انتخابات میں وجے کی انتخابی مہم نے پوری ریاست میں نئی سیاسی لہر پیدا کردی۔ان کے جلسوں میں لاکھوں نوجوان شریک ہونے لگے۔سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز کروڑوں بار دیکھی گئیں۔
وجے نے اپنی تقریروں میں:بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، نوجوانوں کے مستقبل،کرپشن،اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو مرکزی موضوع بنایا۔انہوں نے خود کو روایتی سیاست دان نہیں بلکہ عوام کا نمائندہ قرار دیا۔
جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو ابتدائی رجحانات ہی نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔TVK مسلسل آگے بڑھتی رہی اور آخرکار 107 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن گئی۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی حیران کن تھا کیونکہ:پارٹی صرف دو برس پرانی تھی،کوئی بڑا سیاسی اتحاد ساتھ نہیں تھا،اور مقابلہ دہائیوں پرانی جماعتوں سے تھا۔DMK اور AIADMK دونوں کے لیے یہ نتیجہ ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
107 سیٹوں کی جیت کے باوجود حکومت بنانے کے لیے 118 کا جادوئی ہندسہ ابھی دور تھا۔یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اصل سیاسی کھیل شروع ہوا۔چنئی کے سیاسی حلقوں میں رات بھر میٹنگیں ہونے لگیں۔
آزاد امیدواروں، چھوٹی جماعتوں اور ناراض لیڈروں سے رابطے شروع ہوگئے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق کئی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے وجے کو وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت پر آمادگی ظاہر کی۔
ان میں خاص طور پر:1. پٹو مکل کچی (PMK)PMK کے کچھ ارکان نے TVK کی حمایت کے اشارے دیے۔
ذرائع کے مطابق ان کی طرف سے: صحت، ٹرانسپورٹ، اور دیہی ترقی کی وزارتوں کا مطالبہ کیا گیا۔
دلت سیاست کی اہم جماعت VCK کے کچھ لیڈروں نے بی جے پی کو روکنے کے نام پر وجے کے ساتھ آنے کی حمایت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے:سماجی انصاف،اقلیتی بہبود،اور فلاحی محکموںمیں حصہ مانگا۔
کمل ہاسن کی جماعت MNM کے کچھ ناراض ارکان نے بھی TVK سے رابطہ کیا۔سیاسی حلقوں میں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ ان میں سے چند لیڈر وجے کی حکومت میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔
آزاد امیدوارکئی آزاد ارکان اسمبلی نے کھل کر وجے کی حمایت کی بات کہی۔ان کی اہم شرطیں یہ بتائی جارہی ہیں:اپنے علاقوں کے لیے خصوصی فنڈ،ترقیاتی پیکیج،اور مقامی سطح پر اختیارات۔
ذرائع کے مطابق:کچھ لیڈر نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ چاہتے ہیں،کچھ کابینہ میں اہم وزارتیں،اور کچھ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنز پر کنٹرول مانگ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وجے اس وقت انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
راج بھون کے دو چکر: چنئی کے سیاسی ذرائع کے مطابق وجے دو مرتبہ گورنر سے ملاقات کے لیے راج بھون پہنچے۔وہاں انہیں صاف طور پر کہا گیا: 118 : ارکان کی تحریری حمایت لے آئیں، آئین کے مطابق فوراً حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔اسی کے بعد TVK نے اپنی سیاسی سرگرمیاں مزید تیز کردیں۔راج بھون کے باہر میڈیا، کارکنوں اور حامیوں کا ہجوم مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔
DMK اور AIADMK کیوں خوفزدہ ہیں؟تمل ناڈو کی سیاست کئی دہائیوں سے صرف دو جماعتوں کے گرد گھومتی رہی:
مگر پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عوام اب نئے چہرے کو موقع دینا چاہتے ہیں۔وجے کی مقبولیت نے:شہری علاقوں میں DMK کا ووٹ بینک توڑا،جبکہ دیہی علاقوں میں AIADMK کی گرفت کمزور کردی۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وجے نے روایتی سیاست سے بیزار عوام کو ایک نیا متبادل دیا۔
جنا نائگن: فلم یا سیاسی اعلان؟وجے کی آخری فلم جنا نائگن اس وقت سیاسی علامت بن چکی ہے۔فلم کی کہانی ایک ایسے عوامی رہنما کے گرد گھومتی ہے جو بدعنوان نظام کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ: یہ فلم نہیں، وجے کی اصل سیاسی زندگی کا ٹریلر ہے۔اسی لیے سوشل میڈیا پر ایک نعرہ بہت وائرل ہورہا ہے:ریئل ہیرو ریئل چیف منسٹر!کیا آج وجے حلف لیں گے؟چنئی میں اس وقت سیاسی سرگرمیاں آخری مرحلے میں ہیں۔
خبریں ہیں کہ:کچھ آزاد امیدوار حمایت کا خط دینے کو تیار ہیں،چند چھوٹی جماعتیں آخری مذاکرات میں مصروف ہیں،اور TVK قیادت مسلسل راج بھون سے رابطے میں ہے۔اگر 118 کا ہندسہ مکمل ہوگیا تو تھلاپتی وجے کسی بھی وقت وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لے سکتے ہیں۔
اختامی تجزیہ:
ایک فلمی خواب جو حقیقت بن گیا: کبھی سنیما گھروں میں وجے کے ڈائیلاگ پر تالیاں بجتی تھیں، آج انہی کے سیاسی نعروں پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہیں۔2024 میں سیاست میں قدم رکھنے والا ایک فلمی ستارہ صرف دو برس میں اقتدار کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔یہ صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں، بلکہ ہندوستان کی بدلتی ہوئی سیاست کی سب سے بڑی علامت ہے۔
اب پوری ریاست کی نظریں صرف ایک منظر پر ٹکی ہوئی ہیں:راج بھون کے دروازے،گورنر کی منظوری،اور تھلاپتی وجے کی ممکنہ حلف برداری۔












