واشنگٹن، (یو این آئی) امریکہ کے صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس نے جمعرات کے روز کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے لیے نہایت ضروری سمجھتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ترجیح بالکل واضح کر دی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ کو حاصل کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا کرنا ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔ وائٹ ہاؤس کا یہ بیان امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے درمیان براہِ راست بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ گفتگو صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے عزائم کے حوالے سے ہوئی۔قابلِ ذکر ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک نیم خود مختار علاقہ ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ بدھ کے روز واشنگٹن میں گرین لینڈ میں ان کے ہم منصب، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی بات چیت بنیادی اختلافات حل کیے بغیر ختم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بنیادی اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ مسٹر راسموسن نے کہا کہ ہم امریکہ کے مؤقف کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔گرین لینڈ کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اختلافات کے باوجود ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا ہم آگے بڑھنے کا کوئی مشترکہ راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروپ کی پہلی میٹنگ چند ہفتوں کے اندر متوقع ہے۔ مسٹر راسموسن کے مطابق اس گروپ کی توجہ ڈنمارک کی ریڈ لائنز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امریکی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے پر ہوگی۔قابلِ ذکر ہے کہ ڈنمارک اور امریکہ دونوں نیٹو کے رکن ہیں۔ اسی دوران ڈنمارک اور اس کے کئی یورپی اتحادیوں نے گرین لینڈ میں فوج تعینات کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جو اس اسٹریٹجک طور پر اہم آرکٹک جزیرے میں سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی علامت ہے۔ وائٹ ہاؤس نے نائب صدر وینس اور ڈنمارک کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔محترمہ لیویٹ نے انتظامیہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا، اس ملاقات میں دونوں فریق ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، جو گرین لینڈ کے حصول سے متعلق تکنیکی بات چیت جاری رکھے گا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ بات چیت ہر دو سے تین ہفتے میں ہوگی۔ تاہم ڈنمارک کے حکام نے بات چیت کے بعد بالکل مختلف بات کہی۔ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ نے گرین لینڈ کی وزیرِ خارجہ ویوین موٹزفیلڈ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، ہمارے لیے وہ خیالات جو ڈنمارک حومت کی علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام نہیں کرتے، یقینی طور پر پوری طرح ناقابلِ قبول ہیں۔ مسٹر راسموسن نے کہا کہ ہم امریکی مؤقف کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ یہ ڈنمارک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کا حصول بالکل ضروری نہیں ہے اور روس یا چین کی جانب سے خطرہ لاحق نہیں ہے۔ گرین لینڈ میں امریکی دلچسپی اس کی اسٹریٹجک حیثیت، وافر معدنی وسائل اور اس خطے میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کی وجہ سے ہے۔












