اعجاز ڈار
سرینگر، 21جنوری، سماج نیوز سروس: فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہے فوج ، پیرا ملٹری فورس ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اپنے لوگوں کو محفوظ بنانا ہمارا فرض ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ ہم کبھی جنگ نہیں چاہتے تھے تاہم کوئی آنکھ دکھا نے کی کوشش کر تا ہے تو اس کو بھر پور انداز میںجواب دیتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق جموں میں فوج کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ نے آج کہا کہ فوج بہت مضبوط ہے اور ہر چیلنج کا بہت مؤثر طریقے سے سامنا کر رہی ہے۔راجوری میں ہلاکتوں پر ایک سوال کے جواب میں بھٹ نے کہا کہ فوج کو تمام چیلنجوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بتاتے ہوئے کہ کوویڈ وبائی مرض کے دوران پوری دنیا کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے حالات کو بہت اچھی طرح سے سنبھالا، بھٹ نے کہا کہ راشن کی دکانیں اتنی بھری ہوئی ہیں کہ بحران میں بھی ایک سال تک ملک کے لوگوں کو کھانا کھلا سکیں۔راشن کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے سٹور بھرے ہوئے ہیں اور اگر ہمارے پاس ایک سال سے راشن نہیں ہے تو بھی ہم اپنے لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں جیسا کہ ہم اس وقت کر رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ہمسایہ ممالک میں لوگ راشن کے لیے لڑرہے ہیں لیکن ہمارے وزیر اعظم کا انتظام دیکھئے کہ ہم نے کووڈ کی تین لہروں کے دوران بھی ہر لہر میں کروڑوں لوگوں کو مفت راشن دیا۔ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستانی عوام نے ہندوستان کی تعریف کی ہے، وزیر نے کہاپاکستان یقینی طور پر ہماری تعریف کرے گا۔ ہم دوسروں کے لیے برا نہیں سوچتے لیکن بیرونی طاقتوں نے یا تو ہماری سرحدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی یا امن میں خلل ڈالا۔ ہم نے نہ کبھی جنگ شروع کی اور نہ ہی شروع کی لیکن اگر کوئی کرتا ہے تو ہماری افواج نے مناسب جواب دیا اور اڑی یا گاولاں اس کی مثالیں ہیں‘‘۔جموں و کشمیر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے ۔ ہماری افواج، پیرا ملٹری یا فوج، ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اپنے لوگوں کو محفوظ بنانا ہمارا فرض ہے۔بھٹ نے کہا کہ عوام کے تعاون اور بہادری سے جموں و کشمیر میں امن بحال ہوا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو سالوں میں سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج کو جب اور جہاں چاہیں کوئی بھی درست فیصلہ کرنے کے لیے آزادانہ اختیار دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہمارے کمانڈر تمام اقدامات اور فیصلے اگر اور لیکن ذہن میں رکھتے ہوئے کر رہے ہیں’۔












