مرادآباد ، عید جس طرح سے نزدیک آرہی ہے اور لوگ عید کی تیاریوں میں اپنے اہل خانہ کو لیکر بازاروں کے چکر لگا رہے ہیں ایسے میں بازاروں کی رونق میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جہاں ریڈیمیٹ کپڑوں کا رواج عام ہے اور لوگ سلے ہوئے کپڑوں پر تےار کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں بازاروں میں نئے نئے ڈزائن کے سلے اور بغیر سلے کپڑے فروخت ہو رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو عید کے لئے درزیوں سے کپڑے سلواتے ہیں،عید پر سبھی کرتا پائیجامہ پہننے کا اہتمام کرتے ہیں پہلے علماءاور حفاظ و اہل مدارس ہی کلیدار کپڑے پہنا کرتے تھے لیکن اب اس کا کریز بڑھتا جارہا ہے اور عوام میں بھی اس کو مقبولیت مل رہی ہے لیکن ان کلیدار کرتے پائیجامے سینے والے درزی محدود ہیں اس لئے ان کی دوکانوں پر گاہکوں کی بھےڑ نظر آرہی ہے حالانکہ اکثر درزیوں نے نصف رمضان اور اس سے پہلے سے ہی کلیدار کپڑوں کی سلائی کی بکنگ بند کر دی ہے اور اپنی دوکانوں کے باہر ہاؤس فل کے بورڈ لگا رکھے ہیں۔محلہ سرائے پختہ میں مرکز والی مسجد کے آس پاس تقرےبا ایک درجن سے زائد درزی ہیں جو کلیدار کپڑوں کے ماہر مانے جاتے ہیں یہاںقرب و جوار سے ہی نہیں بلکہ دیگر اضلاع سے بھی لوگ کلیدار کپڑے سلوانے پہنچتے ہیں ،مگر اس وقت درزیوں کی دوکانوں پر ایسے حالات ہیں کہ انہوں نے اپنی دوکانوں کے باہر ہاؤ س فل کے بورڈ لگاکر کپڑے لینا بند کر دئیے ہیں عید کے لئے لوگ کرتے پائیجامہ کو اہمیت دیتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پسند کے مطابق کپڑے سلوائیں اس وقت درزیوں کی دوکانوں کے باہر لگے ہاوس فل کے بورڈوں نے ان کو مایوس کر دیا ہے۔ اور اب وہ اپنے کپڑے سلوانے کے لئے دوکانوں پر بھٹک رہے ہیں، کوئی بھی ٹیلر کپڑے لینے کو تیار نہیں ہے جس سے کرتے پائیجامہ پہننے والوں میں سخت مایوسی ہے۔ کلیدار کرتے پائیجامہ کے ماہر درزی حافظ محمد سعید نے بتایا کہ علماءکے علاوہ عوام بھی ان کلیدار کپڑوں کو پسند کر رہے ہیں اور اس میں جالی اور دانا لگواکر ڈزائن دار کپڑے سلواتے ہیں ایسے میں اس میں وقت زیادہ لگتا ہے اور گاہک سے پیسے بھی زیادہ لینے پڑتے ہیں گاہک خوشی خوشی پیسے دینے کو بھی تیار ہے مگر ایکسٹراکاریگر بیٹھانے کے باوجود بھی وقت اور کاریگروں کی کمی ہے،عید کے لئے کلیدار کپڑوں کی بکنگ تو شب برآت سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے اب سبھی کے کپڑے عید سے پہلے تیار کرنے ہوتے ہیں اس لئے اب مزید بکنگ کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔ کاریگر دن دن رات کام کر رہے ہیں اور جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔












