نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہماراسماج: شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی اوراردو اکادمی کے اشتراک سےآرٹس فیکلٹی کے کمرہ نمبر ٢٢ میں یک روزہ قومی سمینار "اردو میں حاشیائ ادب "کا انعقاد عمل میں آیا ،جس میں افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر قمر الہدی فریدی نے کی۔ اس موقعے پرصدر شعبۂ اردو پروفیسر نجمہ رحمانی نےمہمانوں اور شعبۂ اردو کے علاوہ دیگر شعبے کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا استقبال کرتے ہوے حاشیائ ادب کے بارے میں کہا کہ ” اس سیمینار سے جہاں ذہن کے جالے صاف ہوں گے وہیں نئے جالے بھی بنے جائیں گے "۔ کلیدی خطبہ دیتے ہوئے پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کہا کہ "حاشیہ” عزت دار نوکر کو کہتے ہیں ۔اور یہ لفظ ایک زمانے میں جتنا باوقار تھا آج اتنا ہی بدنام ہے، مرکز کا اقتدار اور اختیار معاشرے کا مرکز ہوتا ہے اور جو جتنا مرکز سے دور ہوتا ہےاس کا اختیار اور اقتدار کہیں کا نہیں رہتا ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ حاشیائی ادب کی اہم ترین مثال راہی معصوم رضا کا ناول "آدھا گاؤں”ہے۔اردو میں چھپ نہیں سکا بلکہ ہندی میں شائع ہوا اس سے بڑی حاشیائی ادب کی مثال کیا ہوسکتی ہے۔۔افتتاحی اجلاس کے صدر پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کہا کہ جہاں آج ہم کھڑے ہیں وہ مرکزی مقام ہے اور حاشیائی ادب کو مرکز میں لانے کی سعی جاری ہے۔اور کہا کہ حاشیائی ادب پر ذیادہ کام نہیں ہوا ہے لیکن جتنا ہوا ہے اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیئے ،جب لفظ تجربہ احساسات وجزبات میں ڈھل جاتے ہیں تو وہ ہر زمانے کا انمول رتن بن جاتے ہیں، مزید کہا کہ ہم بیک وقت کبھی حاشیے پر ہوتے ہیں اور کبھی مرکز میں، اس کی مثال کالو بھنگی ہے ۔۔۔ مہمان اعزازی پروفیسر امیتابھ چکرورتی نے حاشیائی ادب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئیڈیا نیا نہیں ہے بلکہ پرانا ہے لیکن اسے نئے زاویے سے دیکھا اور پرکھا جا رہا ہے تاکہ نئ جہت متعارف ہوسکے۔سیمینار کی نظامت کرتے ہویے پروفیسر ابوبکر عبادنے کہا کہ حاشیے کے لیے مرکز کا ہونا ضروری ہے، حاشیہ اور مرکز کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے ،حاشیے کا تصور ہر دور میں بدلتا رہتا ہے اور حاشیائی ادب کے اقسام کو بیان کرتے ہوئے۔کہا کہ حاشیائی ادب کی اہم کڑی عورت ہے۔پہلے اجلاس میں اظہار تشکر کرتے ہوئے پروفیسر ارشاد نیازی نے کہا کہ حاشیے سے جو لوگ مرکز میں آتے ہیں ان میں انکے علم کا بڑا حصہ ہوتا ہے ۔۔دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر سراج اجملی نے کی،اور اس میں کل چھ مقالات پیش کیے گئے ۔












