روس و قفقاز:روس نے کہا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس کو ختم کرنے کے اسرائیلی دعوے بے بنیاد ہیں۔روس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی نو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو حماس کو ختم کرنے کی شرط پرجنگ بندی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ شام کے مقبوضہ علاقے گولان کی چوٹیوں میں گذشتہ روز مجدل شمس قصبے پر میزائل حملے اور اس میں ایک درجن اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کے بعد روس نے اس پر تبصرہ کیا ہے۔
لاؤس کے دارالحکومت وینٹیانے میں آسیان” اجلاس اور مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے وزارتی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔روسی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنا، جیسا کہ نیتن یاھو کہتے ہیں، غیر حقیقی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں 10 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے کسی بھی معاہدے کے بدلے حماس کی موجودگی کو ختم کرنے کا خیال غیر منطقی اور حقیقت سے دور ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاوروف نے 25 سے 27 جولائی تک لاؤس کا دورہ کیا۔ جمعرات کو کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کیں، جمعے کو روس-آسیان” فارمیٹ میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ روس نے ہمیشہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور بار ہا اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
وہاں جنگ بندی پر بات چیت کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہے۔ مذاکرات کاروں اور اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے نیتن یاہو پر پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔












