احمد آباد،(یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان چوتھے صنعتی انقلاب کی قیادت کے ارادے سے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔مسٹرمودی تقریباً سوا لاکھ کروڑ روپے کے تین سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر ملک بھر کے نوجوانوں سے بھی خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا 21ویں صدی، ٹیکنکل ڈریون صدی ہے اور الیکٹرانک چپ کے بغیر اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میک ان انڈیا چپ، ڈیزائن اِن انڈیا چپ ہندوستان کو خود انحصاری اور جدیدیت کی طرف لے جانے کی بڑی صلاحیت پیدا کرے گی۔ پہلے ، دوسرے اور تیسرے صنعتی انقلاب کے دوران، ہندوستان مختلف وجوہات کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا، لیکن اب ہندوستان انڈسٹری 4.0، چوتھے صنعتی انقلاب کی قیادت کے ارادے سے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہم ایک لمحہ بھی کھونا نہیں چاہتے ۔ آج کا پروگرام اس بات کی بھی ایک مثال ہے کہ ہم اس سمت میں کتنی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے دو سال قبل سیمی کنڈکٹر مشن شروع کرکے پہل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے چند مہینوں کے اندر ہمارے پہلے ایم اویو پر دستخط ہو گئے تھے ۔ آج صرف چند مہینوں کے اندر ہم تین منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ انڈیا کمٹس، انڈیا ڈیلیورز اینڈ ڈیموکریسی ڈیلیورز۔ دنیا میں صرف چند ممالک ہی آج سیمی کنڈکٹر تیار کر رہے ہیں۔ کورونا نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ دنیا کو ایک قابل اعتماد اور لچکدار سپورٹ سپلائی چین کی اشد ضرورت ہے ۔ ہندوستان اس میں بڑا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔ ہندوستان پہلے ہی خلائی، ایٹمی اور ڈیجیٹل طاقت ہے ۔ آنے والے وقت میں ہم سیمی کنڈکٹر سیکٹر سے متعلق مصنوعات کی کمرشل پروڈکشن کریں گے ۔ وہ دن دور نہیں جب ہندوستان اس میں بھی عالمی طاقت بن جائے گا۔ ہندوستان اس وقت جو فیصلے کررہا ہے ، جو پالیسیاں بنارہا ہے ، ہمیں اس کا بھی اسٹریٹجک فائدہ ملے گا۔ ہم نے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا ہے ، ہم نے قوانین کو آسان بنایا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سرمایہ کاروں کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین بھی آسان ہو گئے ہیں۔ دفاع، انشورنس اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی کو مزید آزاد کیا گیا ہے ۔ حالیہ برسوں میں، ہم نے الیکٹرانکس اور ہارڈویئر مینوفیکچرنگ میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے ۔ لارج اسکیل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پی ایل آئی اسکیم ہو، الیکٹرانک کمپوننٹ کے لیے اسکیم ہو، یا پھر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرہوں، ان سب میں ہندوستان نے پہل کرکے الیکٹرانک ایکو سسٹم کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ آج ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے نیشنل کوانٹم مشن بھی شروع کیا ہے ۔ جدت کو فروغ دینے کے لیے نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن بھی قائم کی گئی ہے ۔ انڈیا اے آئی مشن بھی تیزی سے پھیلنے والا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف ٹیکنالوجی کو اپنانے بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔












