بلال بزاز
سرینگر،سماج نیوز سروس:پاکستان پر دہشت گردی کو فنڈ دینے اور نوجوان نسل کو منظم طریقے سے تباہ کرنے کے لیے کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ منشیات کی لعنت محض امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سرحد پار کی سازش ہے۔تفصیلات کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کے رام بن ضلع میں ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم‘ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب معاشرہ کسی مقصد کے پیچھے متحد ہوتا ہے تو قانون ہزار گنا مضبوط ہوتا ہے۔رام بن میں ایک ’’پد یاترا‘‘ کی قیادت کرتے ہوئے اور ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، منوج سنہا نے کہا’’آج، میں نے ’پد یاترا‘کی قیادت کی اور منشیات سے پاک جموں کشمیر مہم کے ایک حصے کے طور پر رام بن میں کر رہے ہیں ۔ ‘‘ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ضلع رام بن میں ’پد یاترا‘ کی قیادت کرنے کے بعد ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’دہائیوں سے، پاکستان نے دہشت گردی کو فنڈ دینے اور ہماری نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کا منصوبہ بنایا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت محض امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سرحد پار کی سازش ہے۔منشیات کے نیٹ ورکس کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے سنہا نے زور دے کر کہا کہ ہر ہاٹ اسپاٹ کا نقشہ بنایا جائے گا اور سرجیکل اسٹرائیک کی طرح مارا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ایک بھی اسمگلر کو نہیں بخشا جائے گا۔ پورے نیٹ ورک کو ختم کر دیا جائے گا۔ ‘‘ انہوں نے پولیس کو سپلائی چین کو توڑنے اور تمام سمگلروں کی فہرست بنانے کی ہدایت کی، خاص طور پر ان لوگوں کا جن کا تعلق پاکستان کی حمایت یافتہ کارروائیوں سے ہے۔پوری حکومت اور پورے معاشرے کے نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا ’’ اگر پڑوسی کے گھر میں آگ لگی ہے، تو آپ کا گھر محفوظ نہیں ہے۔ منشیات شعلوں کی طرح نہیں پھیلتی ہیں وہ ہوا کی طرح پھیلتی ہیں‘‘۔انہوں نے ہر پنچایت اور وارڈ سے خواتین کی ویجیلنس کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ کیا، خواتین کو پاکستان کی مالی امداد سے چلنے والی منشیات کی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی فرنٹ لائن کے طور پر بیان کیا۔ایل جی سنہا نے انہیں جال میں پڑنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا ’’ منشیات ٹھنڈی نہیں ہیں ۔وہ منشیات اور منشیات فروشوں کی غلامی ہیں۔ پاکستان آپ کو پھنسانا چاہتا ہے۔ ایسا نہ ہونے دیں۔ ‘‘ لیفٹنٹ گورنر نے مزید کہا کہ جہاں علاج اور بحالی ایک ترجیح ہوگی، سرحد پار روابط کے ساتھ منشیات کو آگے بڑھانے والوں کو قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم ناکام ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔












