بہارشریف(ایم ایم عالم)رحمت و برکت و مغفرت کے ماہ مبارک کا نصف سے زائد حصہ گزر چکا ہے یعنی پہلا عشرہ گزر چکا ہے اور دوسرا عشرہ بھی قریب قریب اپنے اختتام پر ہی ہے۔اس ماہ میں مسلمانوں کا جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے اور ایمان بھی بہت قوی ہو جاتا ہے بڑے بڑے گمراہ و گناہگار بھی روزہ و نماز کے پابند ہو جاتے ہیں۔نیز تقوی کسے کہا جاتا ہے یہ بات بھی اسی ماہ میں سمجھ میں آتی ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ ان مسلمانوں کے ایسے جذبے کو مزید تقویت عطا فرمائے(آمین) چونکہ اس دعوت افطار کے انعقاد کا مقصد عین حصول ثواب سے ہی ہے لیکن اس کے علاوہ قومی یکجہتی کو فروغ دینا بھی ہے۔چنانچہ اس دعوت افطار میں نہ صرف مسلم روزہ داروں کو مدعو کیا گیا ہے بلکہ غیر مسلموں کو بھی کثیر تعداد میں مدعو کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں کئی ہندی و اردو ادبی تنظیم کے اراکین و عہدیداران کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔اس دعوت افطار کی یہ خوبی ہے کہ یہ معاشرے میں یکجہتی و ہم آہنگی قائم کرنے میں بہت ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اس لئے عہد حاضر میں ایسی تقاریب کے انعقاد کی اشد ضرورت ہے۔یہ دعوت افطار جمعیت علماء نالندہ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ جماعت ماضی کی مانند بھائی چارہ ومذہبی ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔اس موقع پر خرابئ صحت کے باعث صدر جمعیت علما نالندہ بہ نفس نفیس شامل نہیں رہے لیکن موصوف نےاس کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بذریعہ فون فرمایا ہے۔جمعیت علماء نالندہ کے نائبین صدور و شہر کے معروف سرجن جناب ڈاکٹر سرفراز اور فضل الرحمان سابق پرنسپل نیشنل ہائی اسکول بہارشریف نے مشترکہ طور پر ذرائع ابلاغ کو بیان دیا کہ اپنے وطن عزیز میں بھائی چارہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے جمعیت علماء نالندہ نے دعوت افطار منعقد کیا۔یہ دعوت افطار کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس کی روایت بہت قدیم ہے۔ہمارے اکابرین بھی اس کا اہتمام فرماتے رہے ہیں۔ایسی دعوتوں کی حالیہ تناظر میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔بعد نماز مغرب نئی سرائے مسجد میں جماعت علماء نالندہ کے نئے دفتر کا افتتاح ہوا۔اس موقع پر کانگریس لیڈر عمیر خان نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں اس دفتر کے افتتاح کے ساتھ بہت بڑا کام انجام پایا ہے۔جماعت علما ہند بلا امتیاز مذہب و ملت کام کرتی ہے۔یہ مظلوموں،محتاجوں،مفلسوں کو مختلف قسم کی امداد فراہم کرتی ہے۔اسی طرح پٹنہ سے آئے ہوئے مہمان انوار الہدیٰ نے کہا آج وطن عزیز کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ہماری تنظیم جمعیت علماء ہند دہائیوں سے یہ کام انجام دے رہی ہے۔اسی طرح خازن جمعیت علماء نالندہ منیر الرحمان نے کہا کہ آج یہ جمعیت ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے۔جس رفتار سے مسلم دشمن حکومت ہند مسلمانوں کو آئینی شکنجے میں کس رہی ہے وہ ناقابل تحمل ہے۔شکر ہے کہ حضرت مولانا ارشد مدنی قومی صدر جمعیت علماء ہند نے ان مظلوموں کے دکھ درد کو سمجھا اور انہیں آئینی مدد دینے کا عزم کیا۔اس موقع پر جمعیت علماء ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا محمد عباس قاسمی،ریاستی سکریٹری ڈاکٹر فیض احمد قادری،ریاستی سکریٹری،ارشد متین انوار الھدی،سکریٹری مولانا شہاب الدین،صغری وقف اسٹیٹ کے متولی ڈاکٹر مختار الحق،سید زید احمد عرف چھوٹن بہاری،ڈپٹی میئر نمائندہ دانش ملک،سابق ڈپٹی میئر ندیم ظفرعرف گلریز انصاری،جمعیت المومنین کے صدر محفوظ انصاری،کونسلر انجینیر علی احمد،آفتاب عالم،معروف شاعر و ادیب صحافی بےنام گیلانی،زاہد انصاری،میر ارشد حسین،ریاض خان،سرفراز خان،ڈاکٹر ناصر احسن،محمد انصار رضوی ڈائرکٹر روز میری لینڈ اسکول،ڈاکٹر مبشر حیات،ڈاکٹر توحید کاظمی،ڈاکٹد ارشاد حسن شاد وغیرہم نام خصوصی طور پر لیا جا سکتا ہے۔












