واشنگٹن(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ اس بات چیت میں غزہ میں جنگ، ایران اور اسرائیل سمیت دنیا پر عائد امریکی ٹیرف سے متعلق امور شامل ہیں۔ تاہم امریکی ایوان صدر نے بغیر کوئی وجہ بتائے ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان پریس کانفرنس منسوخ کرنے کی وجہ معلوم نہیں، انہوں نے ہمیں بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان پریس کانفرنس ان کے پہنچنے سے چند منٹ قبل منسوخ کر دی گئی تھی۔ فروری کے اوائل میں امریکی صدر کی میزبانی کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ دوسرا دورہ واشنگٹن ہے۔اپنے پہلے دورے کے دوران ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول کے لیے اپنے منصوبے کی نقاب کشائی کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ اس کا مقصد غزہ کو معاشی طور پر اور رئیل اسٹیٹ میں ترقی دینا تھا۔ ٹرمپ غزہ کو مشرق وسطیٰ کے رویرا” میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔اس مرتبہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی تجارتی شراکت داروں پر بڑے محصولات کے اعلان کے بعد دنیا میں ہلچل ہے اور ٹرمپ کے اس ٹیرف نے عالمی سٹاک مارکیٹوں کو افراتفری کا شکار کر دیا ہے۔ نیتن یاہو پہلے غیر ملکی رہنما ہیں جن کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ہوئی ہے۔ اس ٹیرف کا اثر اسرائیل پر بھی نہیں پڑا ہے۔صہیونی وزیر اعظم نے امریکہ روانگی کے وقت کہا تھا میرے خیال میں یہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خصوصی ذاتی تعلقات اور خصوصی بندھن کی عکاسی کرتا ہے اور یہ اس وقت ضروری ہے۔ نیتن یاہو کا بنیادی مقصد کل بدھ 9 اپریل سے اسرائیل پر لاگو ہونے والے 19 فیصد امریکی ٹیرف کو منسوخ کرانا یا اسے کم از کم سطح پر لانا ہے۔تل ابیب نے بدھ کو ٹرمپ کے اعلان کو روکنے کی کوشش کی اور امریکی اشیا پر ٹیرف کے باقی ایک فیصد کو منسوخ کر دیا لیکن ٹرمپ نے اپنے محصولات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کے ایجنڈے میں غزہ جنگ بندی معاملہ اور غزہ جنگ بندی، فلسطینیوں کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور ایران کے ساتھ اسرائیلی کشیدگی میں اضافہ بھی شامل ہے۔اسرائیل نے حماس کے ساتھ تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے بعد 18 مارچ کو غزہ کی پٹی میں اپنی جنگ دوبارہ شروع کردی ہے۔ سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر حملوں میں اسرائیل نے 50695 فلسطینیوں کی جان لے لی۔۔ایران کے بارے میں ٹرمپ تہران کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے حوالے سے براہ راست مذاکرات” کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنا ہے۔












