ممبئی،پریس ریلیز،ہماراسماج:جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے اراکین عاملہ و مدعو ئین خصوصی کا ایک تنظیمی نوعیت کا اجلاس حاجی محمد صابو صدیق مسافر خانہ (کرافورڈ مارکیٹ ممبئی )میں صبح دس بجے منعقد ہوا، اور اس کے اختتام پر متصلا جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مختلف ضلعی ؍زونل؍شہری اکائیوں کے صدور نظماء کا مشاورتی اجلاس اسی مقام پر منعقد ہوا، دونوں اجلاس کی صدارت مولانا حلیم اللہ صاحب قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے فرمائی۔دونوں اجلاس میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے تنظیمی امور زیر بحث آئے اور اس کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کے سی ای او کا اضافی چارج ایک غیر مسلم شخص کو دئے جانے پر تمام ممبران نے غم و غصہ کا اظہار کیا، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حج ایک اسلامی عبادت ہے اس لئے فوری طور پر ایک مستقل مسلم شخص کو حج کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا جائے – مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی، اخلاقی انحطاط اور نوجوان نسل کی بے راہ روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصلاح معاشرہ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا اور اس کے لائحہ عمل پر غوروخوض کیا گیا -اجلاس کےصدر حضرت مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماءمہاراشٹر )نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ جمعیۃعلماء ایک مذہبی فکر ساز جماعت ہے ۔ وہ وقت کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے پوری ملت کی رہنمائی کرتی ہے ، جمعیۃعلماء کے وابستگان کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے مقام پر جمعیۃعلماء کے رہنما خطوط کی روشنی میں کام کی ترتیب بنائیں ۔ جمعیۃ علماء کی یونٹیں اپنے اپنے وسائل و حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہاسپٹل بنائیں، کالج بنائیں۔یا دوسری عوامی خدمت کے کام کریں، جمعیۃ علماء مہاراشٹر ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے لئے ہمہ وقت تیار رہے گی -مولانا حلیم ا للہ قاسمی نے حکومت ہند کی طرف سے جاری کئے گئے امید سینٹرل پورٹل پر تفصیلی گفتگو کی ،اور حاضرین کو اس بات کی تاکید کی کہ وہ موقوفہ جائیدادوں کو امید پورٹل پر اپ لوڈ کرنےکے لئے منصوبہ بند طریقہ پر کام کریں ۔ نیز ان جائیدادوں کی تفصیل حاصل کریں جو ابھی تک امید سینٹرل پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہوسکی ہیں ۔اور ان کے لئے منظم پروگرام بنا کر اس کو جلد از جلد اپ لوڈ کرائیں۔ناگپورسےآئےہوئے ایک نمائندےنے سوال کیا کہ جمعیۃ علماء کا کوئی ممبر یا عہدیدار کسی سیاسی پارٹی کا ممبر بن سکتا ہے یا نہیں اور اس سیاسی پارٹی کے لیے ووٹ کی اپیل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا حلیم اللہ قاسمی نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دستور اس کی اجازت دیتا ہے کہ جمعیۃعلماء کا کوئی ممبر یا عہدیدار کسی بھی سیکولر سیاسی پارٹی کا ممبر بن سکتا ہے اور اس کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے لیکن دستور اس کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کو حا صل کر نے کے لیے جمعیۃ علماء کا استعمال کرے،اور خلاف ورزی کی صورت میں ایسے شخص کے لیے دستور میں تادیبی کارروائی کی شق موجود ہے مولانا نے مزید فرمایا کہ بہار اسمبلی الیکشن اور مہا راشٹر کار پوریشن الیکشن کے موقع پر جمعیت علماء مہاراشٹر کے بعض ذمہ داروں کے بارے میں یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ انہوں نےدستور کی اس دفعہ کی خلاف ورزی کی ہے اس کی تحقیق ہورہی ہے الزام درست ثابت ہونے پر مجلس عاملہ ان کے خلاف دستوری کاروائی کرے گی۔مفتی محمد یوسف قاسمی ناظم اعلیٰ نےجماعت کے مالی نظام اوراستقبال رمضان المبارک کے سلسلہ میں تفصیل سے گفتگو کی ۔ اور حاضرین کو اس جانب متوجہ کیا کہ وہ جماعت کے تقاضوں کے پیش نظر زیادہ سے فراہمی مالیات پر توجہ دیں ،اور اس میدان میں بذات خود اور اپنے دوست و احباب و مخیرین کو بھی ترغیب دیں ۔مقامی و ضلعی یونٹوں کے صدور و نظماء اعلیٰ کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کی کہ رمضان المبارک اور ہنگامی حالات میںصرف صوبہ کی رسید بک پر چندہ کریں ۔اجلاس کا آغاز قاری محمد یونس چودھری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اختتام اجلاس کے صدرمولانا حلیم اللہ قاسمی کی دعا پر ہوا ۔مشاورتی اجلاس میں اراکین مجلس عاملہ اور مدعوئین خصوصی کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں ضلعی/ شہری اور زونل جمعیتوں کے صدور و نظماء اعلیٰ نیز ممبئی و اطراف کی مقامی یونٹوں کے صدور و نظماء نے شرکت فرمائی ۔












