تہران(ہ س)۔ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نئے امکانات کے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں ماضی کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کو بہتر مستقبل کی جانب لے جانے والی راہ امید کی ازسرنو تعمیر، سیکھنے اور تبدیلی کے لیے آمادگی اور ایک ایسا راستہ ہے جو ہم آہنگی، ہمدردی اور عقل و فہم پر مبنی ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران آج بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے ہونے پر یقین رکھتا ہے اور اس پْرامن راستے کو سنجیدگی سے اپنانا چاہتا ہے۔یہ بیان ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے گزشتہ ماہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والے فائر بندی معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔پیر کو ترکیہ اور ملائیشیا کے وزرائے دفاع سے الگ الگ گفتگو کے دوران جنرل نصیر زادہ نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مقصد نہ تو جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا ہے اور نہ ہی خطے کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانا، تاہم اگر کسی جانب سے حملہ کیا گیا تو ایران ایک "فیصلہ کن اور تکلیف دہ” ردعمل دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران، فائر بندی پر بھروسہ نہیں کرتا، اسی وجہ سے اس نے ہر ممکنہ صورتِ حال کے لیے مختلف منظرنامے تیار کر رکھے ہیں۔اس دوران پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے معاون برائے امورِ رابطہ، جنرل ایرج مسجدی نے کہا کہ ایران مسلسل اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مصروف ہے، چاہے وہ جنگ کے دوران ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جنگ ایران کے لیے ایک عملی مشق جیسی تھی جس نے دفاعی فضائی نظام، میزائل صلاحیت اور حملہ آور تیاریوں کے لحاظ سے ایران کو خود کو آزمانے اور بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے جن میں متعدد فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کئی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدان ہلاک کیے گئے۔یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب 22 جون کو امریکہ نے بھی تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے تہران کے جنوب میں واقع فردو کے زیرزمین یورینیم افزودگی مرکز، اور اصفہان و نطنز کی دو دیگر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ 24 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان فائر بندی کا اعلان کیا۔یہ جنگ اس وقت جاری مذاکرات کو بھی متاثر کر گئی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان اپریل میں شروع ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل کرنا تھا۔اب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے، خاص طور پر یورینیم کے افزودگی کے معاملے پر۔ ایران اس پر اپنا حق سمجھتا ہے، جب کہ امریکی انتظامیہ اسے ایک سرخ لکیر” قرار دیتی ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران وہ واحد غیر جوہری ملک ہے جو 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے، جب کہ 2015 کے معاہدے میں اس حد کو 3.67 فیصد پر محدود کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔












