بلال بزاز
سرینگر،سماج نیوز سروس:ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھ رہا ہے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سال 2047 کا ہدف محض ایک تاریخ نہیں ہے۔ یہ ایک قومی عزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، ہندوستان نے ترقی کو محض اعدادوشمار سے آگے لے جایا ہے اور اسے ہر دہلیز تک پہنچایا ہے۔تفصیلات کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ہندوستان کی تعمیر پر زور دیا جس کا خواب ہمارے آزادی پسند جنگجوؤں نے دیکھا تھا اور جس میں ہر طبقہ اور ہر فرد ترقی کے مرکزی دھارے کا حصہ ہے۔اتر پردیش کے غازی پور میں معروف سماجی کارکن اور مہامنڈلیشور شری بال کرشن یاتی انٹر کالج کے بانی شری وجے بہادر سنگھ کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف فیصلہ کن طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ سال 2047 کا ہدف محض ایک تاریخ نہیں ہے؛ یہ ایک قومی عزم ہے۔ ‘‘ لیفٹنٹ گورنر وجے بہادر سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہ انہوں نے بغیر کسی توقع کے اپنے فرائض سرانجام دیے، شہرت کی خواہش کے بغیر خدمت کی اور اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تعمیر کی۔لیفٹنٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں شری وجے بہادر سنگھ جی، ایک سچے کرما یوگی کے نظریات کو سماج کے ہر طبقے تک لے جانا چاہیے۔انہوں نے کہا ’’ مجھے خاص طور پر فخر محسوس ہوتا ہے کہ شری وجے بہادر سنگھ جی نے یہ نہیں پوچھا کہ بندراون ان کے لیے کیا کر سکتا ہے؛ اس کے بجائے، انھوں نے دکھایا کہ بندراون اور جکھنیا کا خطہ اپنے لیے کیا کر سکتا ہے۔ یہ انٹر کالج، ایک عوامی تحریک سے پیدا ہوا، ان کے تبدیلی کے کام کی صرف ایک چھوٹی سی علامت ہے‘‘۔اپنے خطاب میں لیفٹنٹ گورنر نے خدمت، قربانی اور قوم کی تعمیر کے بارے میں بات کی۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عزت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ترقی کو محض اعدادوشمار سے آگے لے کر چلایا ہے اور اسے ہر دہلیز تک پہنچایا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ کروڑوں خاندان جن کے سر پر کبھی چھت نہیں تھی اب ان کے اپنے گھر ہیں اور اس سے انہیں معاشرے میں وقار اور تحفظ حاصل ہوا ہے۔انہوں نے کہا ’’ سڑکیں ہر گاؤں تک پہنچ چکی ہیں، ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے، ڈیجیٹل انقلاب نے معاشرے کے ہر طبقے کو جوڑ دیا ہے۔ آج پسماندہ طبقے کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں، ان کی شناخت ہے، وہ مالیاتی لین دین کے لیے سمارٹ موبائل فون رکھتے ہیں، اور میری نظر میں یہ محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ سماجی بااختیاریت ہے‘‘۔ملک کے دور دراز علاقوں میں نئے اسکول، نئی یونیورسٹیاں اور نئی تعلیمی پالیسی نے مل کر ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر شروع کردی ہے جس میں مستقبل کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے جو سہولیات اب دستیاب ہیں وہ ہماری تاریخ میں بے مثال ہیں، اور جدت اور تحقیق کے ذریعے تعلیم کا مقصد اب محض امتحان پاس کرنا نہیں ہے بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دار شہری پیدا کرنا ہے۔












