دیوبند؍سماج نیوز سروس: ہندوستان کی آزادی کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو اس کے صفحات علمائِ کرام کی بے مثال قربانیوں، ان کی دینی حمیت، سیاسی بصیرت اور وطن سے والہانہ محبت کے ذکر سے جگمگاتے رہیں گے۔ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس ملک کی آزادی محض سیاسی قائدین کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں علمائِ حق کا خون، ان کی قربانیاں، ان کی قید و بند کی صعوبتیں اور ان کی شبانہ روز محنت بھی شامل ہے۔ان خیالات کا اظہارمدرسہ مظاہرعلوم وقف کے محصل مولاناابرار الحق مظاہری نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوںنے کہا کہ1857 کی جنگِ آزادی کو اگر ہندوستان کی پہلی منظم تحریکِ آزادی کہا جاتا ہے تو اس کے روحِ رواں علماء ہی تھے۔ مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ، مولانا احمد اللہ شاہؒ، مفتی صدر الدین آزردہؒ اور بے شمار اہلِ علم نے انگریز سامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس جرم میں کسی کو کالاپانی کی سزا ملی، کسی کی جائیداد ضبط ہوئی، کسی کو تخت دار پر چڑھا دیا گیا۔ مدارس کو بند کیا گیا، علماء کو جیلوں میں ٹھونسا گیا، کیونکہ انگریز بخوبی جانتے تھے کہ جب تک علماء کی روح زندہ ہے، غلامی کی زنجیریں مستحکم نہیں ہوسکتیں۔دارالعلوم دیوبند کا قیام بھی دراصل اسی جذب آزادی کی ایک کڑی تھا۔ یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں تھا بلکہ غلام ہندوستان میں آزادی کی ایک خاموش تحریک تھی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے‘‘تحریکِ ریشمی رومال’’کے ذریعہ انگریز حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ مالٹا کی جیل کی سختیاں برداشت کیں مگر استقلال میں فرق نہ آیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین نے آزادی کی تحریک کو مہمیز دی اور ہر اس آواز کے ساتھ کھڑے ہوئے جو اس ملک کو غلامی سے آزاد دیکھنا چاہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی تاریخ کا روشن باب ہے کہ علمائِ کرام نے صرف آزادی کی جنگ ہی نہیں لڑی بلکہ آزادی کے بعد بھی اس ملک کی سالمیت، بھائی چارے اور آئینی تحفظ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیااور علماء نے ہر دور میں ملک کے امن و اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ایسے میں اگر اسی ہندوستان کے کسی بڑے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کی زبان سے علمائِ کرام کے خلاف نامناسب، تحقیر آمیز یا اشتعال انگیز الفاظ سننے کو ملیں تو یہ انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک صورتحال ہے۔ منصب جتنا بڑا ہوتا ہے، زبان کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ ایک عام آدمی کی زبان سے نکلا ہوا جملہ محدود اثر رکھتا ہے، لیکن جب اقتدار کے ایوانوں سے کسی طبقے کے خلاف تلخ الفاظ ادا کیے جاتے ہیں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔مولاناابرار الحق مظاہری نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ آج سیاسی فائدے اور وقتی مقبولیت کے لیے بعض رہنما ایسے بیانات دے دیتے ہیں جو معاشرے میں نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔اگر ملک کے ذمہ دار افراد ہی نفرت کی زبان بولنے لگیں تو اس سے قومی یکجہتی کمزور ہوتی ہے۔












