سڈنی، (یواین آئی ) عراقی فٹ بال ٹیم کو 40 سال کے طویل انتظار کے بعد فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہنچانے والے آسٹریلوی کوچ گراہم آرنلڈ جب اتوار کی رات سڈنی ایئرپورٹ پہنچے، تو وہاں کا منظر کسی جشنِ آزادی سے کم نہ تھا۔ سینکڑوں عراقی شائقین نے اپنے ہیرو کوچ کا استقبال ڈھول کی تھاپ، رقص اور "آرنی، آرنی” کے نعروں سے کیا۔62 سالہ گراہم آرنلڈ کی زیرِ نگرانی عراق نے منگل کے روز میکسیکو میں کھیلے گئے انٹر کانٹیننٹل پلے آف فائنل میں بولیویا کو 2-1 سے شکست دے کر 1986 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں جگہ پکی کی۔یہ کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات (امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ) کی وجہ سے عراقی ٹیم کو شدید لاجسٹک مسائل کا سامنا تھا۔ کئی کھلاڑی خطے میں پھنسے ہوئے تھے، لیکن فیفا کے خصوصی چارٹر طیارے اور آرنلڈ کی سخت حکمت عملی نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔سڈنی ایئرپورٹ پر عراقی برادری نے آسٹریلوی اور عراقی جھنڈے لہرا کر اپنے کوچ کا شکریہ ادا کیا۔ گراہم آرنلڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”یہ ناقابلِ یقین ہے! میں نے آسٹریلیا میں ایسے استقبال کی توقع نہیں کی تھی۔ میں عراق کے عوام سے معذرت خواہ ہوں کہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے میں جشن منانے بغداد نہ جا سکا، لیکن یہاں یہ پیار دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ مجھے اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے جنہوں نے عراقی عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔”کوچ آرنلڈ نے انکشاف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے کھلاڑی ذہنی دباؤ میں تھے، جس کے باعث انہوں نے میکسیکو پہنچتے ہی کھلاڑیوں پر سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا تاکہ ان کی پوری توجہ صرف کھیل پر رہے۔












