کانپور،سماج نیوز سروس : شہر کانپور کی دینی درسگاہ مدرسہ عاشق العلوم، جوہی لال کالونی میں 5 بچوں کی تکمیل حفظ قرآن کے پرمسرت موقع پر ایک عظیم الشان دعائیہ تقریب و ’’عظمت قرآن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں شہر کے جید علمائے کرام اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی سرپرستی مدرسہ مظہر العلوم نکھٹو شاہ کے صدر المدرسین مفتی اقبال احمد قاسمی اور صدارت مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور کے استاذ حدیث مفتی عبد الرشید قاسمی نےکی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی شریک ہوئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے قرآن کریم کی عظمت اور اس کی حفاظت کے ربانی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ روئے زمین پر تکمیل قرآن کی مجلس سے زیادہ مبارک کوئی دوسری مجلس نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ خود فرمایا ہے اور گزشتہ چودہ صدیوں میں مخالفین کی لاکھ کوششوں کے باوجود اس کتاب کے ایک نقطہ میں بھی تبدیلی نہیں کی جا سکی، جو کہ اس کتاب کے کلام الٰہی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مولانا نے انتباہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کو سینوں میں محفوظ کرنا بہت بڑی سعادت ہے، لیکن جو لوگ قرآن کو چھوڑ دیتے ہیں (مہجور کر دیتے ہیں) ان کے خلاف کل قیامت کے دن خود رسول اللہ ﷺ اللہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔ انہوں نے حافظ ابن قیمؒ کے حوالے سے قرآن کو چھوڑنے کی پانچ صورتیں بیان کیں جن میں قرآن کی تلاوت نہ کرنا، اسے نہ سننا، اسے سمجھنے کی کوشش نہ کرنا، اس کے حلال و حرام پر عمل نہ کرنا اور اس سے شفاء حاصل نہ کرنا شامل ہے۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر عوام سے اپیل کی کہ وہ قرآن فہمی اور تلاوت کا خاص اہتمام کریں۔مدرسہ مظہر العلوم کے صدر المدرسین مفتی اقبال احمد قاسمی نے اپنے پرمغز خطاب میں فرمایا کہ قرآن کریم پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا سب سے بڑا اور زندہ معجزہ ہے۔ دیگر انبیاء کے معجزات وقتی تھے مگر قرآن قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے محو خواب ہونے کے باوجود ان کا عصا اپنا کام کرتا تھا، اسی طرح ہمارے نبی ﷺ اگرچہ روضہ اقدس میں آرام فرما ہیں لیکن آپ کا معجزہ (قرآن) آج بھی جاگ رہا ہے اور انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ مفتی صاحب نے زور دے کر کہا کہ قرآن پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مانیں کہ ہدایت صرف اسی کتاب سے وابستہ ہے۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں کو متوجہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم اور قرآنی ہدایات پر عمل پیرا ہونے پر خصوصی توجہ دیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے استاذ حدیث مفتی عبدالرشید قاسمی اور جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے استاذ مولانا محمد حذیفہ قاسمی نے بھی عظمت قرآن کے مختلف پہلوؤں پر مؤثر بیانات پیش کئے۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز مدرسہ مفتاح القرآن کے استاذ قاری مجیب اللہ عرفانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ مدرسہ جامع العلوم کے متعلم مولوی محمد مسعود جامعی نے بارگاہ رسالتؐ میں نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا شان محمد جامعی نے بحسن و خوبی انجام دئے۔ اس پرمسرت موقع پر حفظ قرآن مکمل کرنے والے 5 خوش نصیب طلبہ محمد ذیشان بن محمد نوشاد، محمد مدثر بن مہتاب حسین، محمد ارحم بن محمد جعفر، محمد آصف بن عقیل احمد اور شمس الدین بن محمد شفیق کو اعزاز و اکرام سے نوازا گیا۔اس موقع پر علاقہ کے سرکردہ علماء و عمائدین میں خاص طور پر مولانا انصار احمد جامعی، مولانا محمد سعید خاں قاسمی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا محمد انعام اللہ قاسمی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی، مولانا محمد سہیل قاسمی، قاری محمد سرفراز، مولانا محمد اویس جامعی، مولانا محمد سعود جامعی،قاری بدر الزماں قریشی، قاری محمد احمد ثاقبی، حافظ اسرار احمد، ماسٹر قمر الدین، اسرار احمد، صادق امین اور دیگر موجود رہے۔ اخیر میں مدرسہ کے مہتمم مولانا کلیم احمد جامعی نے تمام مہمان علمائے کرام، ذمہ داران، معاونین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ مجلس کا اختتام مفتی اقبال احمد قاسمی کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔












