ریاض (ہ س)۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز واصل اور فرانس کے مندوب جیروم بوفائٹ نے اقوام متحدہ کے رکن اور مبصر ممالک کے لیے ایک بریفنگ کی صدارت کی۔ یہ مسئلہ فلسطین کے پر امن تصفیے اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے حوالے سے پہلی بریفنگ تھی اور یہ جون 2025 میں آئندہ کانفرنس کے انعقاد کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ کانفرنس کی صدارت مشترکہ طور پر سعودی عرب اور فرانس کریں گے۔دریں اثنا سعودی مندوب نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں امن واستحکام یقینی بنانے کے لیے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ دو ریاستی حل کی حمایت کئی دہائیوں سے مملکت سعودی عرب کا ٹھوس اور اٹل موقف رہا ہے۔سعودی مندوب نے تصفیے سے متعلق مرکزی اہمیت کے حامل معاملات کو زیر بحث لانے کے لیے کئی ورکنگ گروپ بنانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام کانفرنس ایک سرکاری اور جامع راستہ متعین کرے گی جو ایک منصفانہ اور مستقل حل تک پہنچنے کی حالیہ بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنائے گا۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اسی طرح مبصر ممالک کی اکثریت نے مذکورہ کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں سعودی عرب اور فرانس کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ان ممالک نے دو ریاستی حل کی تائید کی تصدیق بھی کی جو ان کے نزدیک بین الاقوامی طور پر متفقہ واحد راستہ ہے۔ ان ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے، انضمام اور جبری ہجرت کی تمام کوششیں مسترد کرنے اور فلسطینی حکومت اور انروا ایجنسی کو سپورٹ کرنے کی اہمیت باور کرائی۔اس موقع پر شریک ممالک نے مسئلہ فلسطین کی سپورٹ میں ریاض کے قائدانہ کردار اور کانفرنس کے لیے اس کی صدارت کو گراں قدر قرار دیا۔












