(مدھوبنی محمد سالم آزاد): میرٹھ کے خرخودہ علاقے کے گاؤں اجراڑا میں واقع مدرسہ گلزارِ حسینیہ کے بانی، آل انڈیا ملی کونسل کے صدر اور جلیل القدر اسلامی اسکالر حضرت مولانا عبداللہ مُغیثی تقریباً سو برس کی طویل اور بابرکت عمر گزارنے کے بعد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے وصال کی خبر نے نہ صرف ان کے علاقے بلکہ پورے ملک کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں کو غم کی گہری تاریکی میں ڈبو دیا ہے۔ حضرت مولانا عبداللہ مُغیثی محض ایک عالمِ دین نہیں تھے بلکہ وہ ایک روشن چراغ، ایک مہربان مربی اور قوم کے لیے سایۂ رحمت کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک انہوں نے مسلسل دینی و تعلیمی خدمات انجام دیں اور ہزاروں تشنگانِ علم کو اپنے علم و فیض سے سیراب کیا۔آج ان کی جدائی نے قوم کو یتیم سا کر دیا ہے۔ ایک ایسا باپ صفت رہنما ہم سے جدا ہو گیا، جس کی کمی شاید مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ آسانی سے پُر ہونے والا نہیں۔ علمی و دینی حلقوں میں ایک خاموشی، ایک اداسی اور ایک ناقابلِ بیان درد محسوس کیا جا رہا ہے۔میں، نظرعالم، قومی صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں، اس سانحۂ عظیم پر دلی رنج و ملال اور گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اللہ رب العزت مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس عظیم نقصان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ تمام اہلِ ایمان سے اپیل ہے کہ اس عظیم شخصیت کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔












