لکھنؤ مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے حسب دستور قدیم یوم علیؓ جلسہ استاد الحفّاظ حافظ عبدالرشید صاحب صدر مرکزی جمعۃ الحفّاظ کی سرپرستی و قاری محمّد حزقیل امام مسجد ایکمنارہ کی نگرانی سیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جلسے کا آغاز قاری محمد طہ وقاری عبدالرّحمن کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاری محمد صدیق صاحب سینئر استاد ادارۂ دارالمبلّغین پاٹانالہ چوک لکھنؤ نےکہا کہ شیرخدا امیرالمؤمنین حضرت علیؓ بچپن سے نہ صرف رسول اللہ ﷺکے ساتھ رھے بلکہ آپ ہی کے آغوش میں پرورش پائی رسولﷺنے بالکل ان کے ساتھ فرزند کی طرح معاملہ فرمایا اور اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی بیٹی سیّدہ فاطمہ زہراؓ کا نکاح کرکے اپنی دامادی کا شرف بھی عطا فرمایا اور بوقت ہجرت رسول اللہؐ نےان کو اپنی چادر اڑھاکر اپنے بستر پر لٹایا اور کچھ لوگوں کی امانتیں آپؐ کے پاس تھیں وہ ان کے حوالے کردیں کہ ان کو واپس کردینا چنانچہ حضرت علیؐ نے ایسا ہی کیا اوربہت جلد ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہونچ گئے قاری محمد صدیق صاحب نے کہا کہ جب رسولؐ کی وفات ہوئ تو غسل دینے کی خدمت بھی حضرت علیؓ کے سپرد ہوئ قاری صاحب موصوف نےکھا کہ سیّدنا علیّ مرتضیؓ ہمیشہ اہل دین کی تعظیم اور غرباء مساکین کا بڑا خیال فرماتے تھے حضرت علیؓ رات کی تنہائیوں اور وحشتوں سے انس حاصل کرتے تھے رات کو روتے بہت تھے اور فکر میں زیادہ رہتے تھے حضرت علیؓ کو لباس وہی پسند تھا جو کم قیمت کا ہو اور کھانا بھی وہی مرغوب تھا جو ادنی درجہ کا ہو قاری محمد صدیق صاحب نے کہا کہ حضرت علیؓ کے انصاف سے کوئ کمزور مایوس نہیں ہوتا تھا اور کوئ طاقتور اپنی طاقت سے ناجائزفائدہ اٹھانے کی امّید نہ کرسکتا تھا حضرت علیؓ بڑے ذہین تھے فیصلے نہائت عمدہ کرتے تھے علم حضرت علیؓ کے اطراف وجوانب سے بہتا تھا سیّدنا فاروق اعظمؓ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ھماری جماعت میں قاضی بننے کی صلاحیت علیؓ میں زیادہ ھے حضرت علیؓ فرماتے تھے کہ ایمان کی علامت یہ ھے کہ جہاں سچ بولنے سے نقصان ہو وہاں بھی سچ بولو* مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے طلباء عزیز نے نعت و منقبت کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا جلسے کا اختتام قاری محمد صدیق صاحب کی دعا پر ھوا۔












