کانپور،سماج نیوز سروس: شہر کے معروف دینی و تعلیمی ادارہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم، اشرف آباد، جاجمئو میں جامعہ کے قدیم و مخلص استاذ اور ممتاز صحافی مولانا محمد انجم مظاہری رحمۃ اللہ علیہ کے اچانک سانحہ ارتحال پر تعزیتی نشست اور دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس نشست میں مرحوم کی دینی، تعلیمی اور صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ناظمِ جامعہ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے فرمایا کہ مولانا انجم صاحب کا اچانک چلے جانا ہم سب کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ گزشتہ 22 سالہ تدریسی دور میں ان کا کبھی کسی سے کوئی اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ جامعہ اور طلباء کے تئیں صد فیصد مخلص تھے۔ سردی، گرمی یا برسات، ان کی حاضری کا ریکارڈ ہمیشہ مثالی رہا۔ انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ مرحوم کی زندگی سے سبق سیکھیں اور اپنے اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی کوشش کریں۔ ان کا دنیا سے اس طرح بے نیاز ہوکر اور اخری دن تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے جانا ان کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ ناظمِ تعلیمات مفتی سید محمد عثمان قاسمی نے مرحوم کی جفاکشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی عمر کے بعد حفظِ قرآن مکمل کرنا ان کی غیر معمولی محنت اور یادداشت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ ابتدائی دور میں میلوں سائیکل چلا کر مدرسہ آتے اور جو بھی ذمہ داری دی جاتی، اسے بغیر کسی شکوے کے پوری دیانت داری سے ادا کرتے۔ اللہ نے ان کی قناعت اور کفایت شعاری کا صلہ یہ دیا کہ آخری وقت میں بھی وہ کسی کے محتاج نہیں ہوئے، نہ کسی سے خدمت لی اور نہ ہی بسترِ علالت پر طویل وقت گزارا، بلکہ چلتے پھرتے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مولانا محمد اکرم جامعی نےمرحوم کے روحانی اور باطنی کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا انجم مظاہریؒ کو اپنے اکابرین، بالخصوص عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد بانویؒ، حضرت مولانا سید نفیس اکبرؒ، قطب عالم حضرت شیخ زکریاؒ اور حضرت مولانا یونسؒ کی خصوصی صحبت و تربیت حاصل تھی۔ ان کے اندر جو خاموشی، بردباری، اور اخلاص تھا، وہ انہی اکابر کی دین تھی۔ وہ کثرت سے ذکر کرتے، ہمیشہ باجماعت نماز کا اہتمام فرماتے اور تکلفات سے کوسوں دور تھے۔ مولانا نور الدین احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا انجمؒ نے ہمیشہ حالات کی سختیوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے سخت ترین آزمائشوں کے باوجود کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں آنے دیا۔ ان کی نفس کشی، عاجزی اور خاکساری ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے دین اور علم کے معاملے میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور قناعت کی بہترین زندگی گزاری۔ مولانا فرید الدین قاسمی نےمرحوم کی قوتِ برداشت اور تحمل کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے اندر تحمل کا مادہ بے پناہ تھا۔ وہ طنزیہ یا چبھتی ہوئی باتوں کا جواب کبھی زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور اخلاق سے دیتے تھے۔ یہ صفت آج کے دور میں نایاب ہے۔ طلباء اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ان کے اس وصف کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، یہی ان سے سچی عقیدت کا تقاضا ہے۔












