نئی دہلی،سماج نیوز سروس: معاشرہ میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے ،روشن تاریخ ماضی کو تابناک مستقبل میں تبدیل کرنے ،امور خانہ داری کو پاکیزہ بنانے ،دینی و مذہبی بیداری پیدا کرنے اور تربیت اولا د ،پڑوسیوں کے حقوق ،عظمت والدین ،احترام بزرگاں اور آپسی رواداری کو برقرار رکھنے کے لئے دختران اسلام کا دینی و عصری علوم سے آراستہ ہونا ضروری ہے ۔پریم نگر کے اندرا انکلیو میں فیضان تاج الشریعہ اکیڈمی کے افتتاحی اجلاس میں پڑوسی ملک نیپال سے تعلق رکھنے والے خطیب چہار زبان مولانا شفیق اللہ چترویدی نے فضیلت علم کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مذکورہ باتیں کہیں۔انہوں نے عرس خواجہ غریب نواز کی مناسبت سے آپ کی حیات و خدمات اور رشدوہدایات کو اہل ہند کے لئے ایک نعمت عظمی قرار دیا ۔الجامعۃ القادریہ برکات رضا کے بانی و مہتمم الحاج قاری ریاست علی رضوی نے بانی اکیڈمی قاری اشتیاق عالم قادری کے اس قدم کی ستائش کی اور باشندگان علاقہ کے لئے اس اکیڈمی کے قیام کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ۔مسجد گلشن امام احمد رضا کے خطیب و امام مولانا ایوب رضا نے اشعار نعت پیش کیا و افتتاحی کلمات میںاکیڈمی کے سربراہ کو اس مشن کے فروغ میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔قاری محمد اقبال نے تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا۔سرپرست اکیڈمی مولانا ڈاکٹر محمد اسحاق نوری، قاری عمران رضا مصطفائی،قاری راشد رضا ،افتخار رضا اور محمد اعیان رضا وغیرہ نے نعت ومناقب پیش کئے ۔اکیڈمی کے ڈائریکیٹر قاری اشتیاق عالم قادری نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ اس علاقے میں عرصہ دراز سے ایک ایسے ادارہ کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جس میں خاص دختران اسلام و کنیزان فاطمہ کو دینی و عصری علوم سے آراستہ کیا جائے۔ائمہ مساجد ،اساتذئہ مدارس ،مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران اورعلاقہ کے باذوق افراد نے اس جانب میری توجہ مبذول کرائی اورمیں نے اس اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا اب ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو اس اکیڈمی سے وابستہ کرکے گھریلو معاشرہ کوتعلیم یافتہ بنانے میں ہمارا تعاون کریں۔












