موانہ/میرٹھ ،سماج نیوز سروس: معہد الشریعۃالاسلامیہ اکرام نگر موانہ میں گزشتہ شب علمی و دینی اجتماع کا انعقاد کیاگیا جسکی صدارت مفتی عمران اللہ قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند نے فرمائی اور مہمان خصوصی کے طورپر مولانا قاری آفتاب احمد قاسمی استاذ تجوید و قرأت دارالعلوم دیوبند نے شرکت کی ،جبکہ نظامت کے فرائض مفتی عفیف اللہ قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دئے۔ پروگرام کا آغاز مولانا قاری محمد ذکاء اللہ قاسمی کی تلاوت اور مولانا قاری حبیب اللہ قاسمی استاذ مدرسہ تائید الاسلام کی نعت پاک سے کیاگیا۔ اس موقع پر ادارے سے حفظ کی تکمیل کرنے والے طلبہ کی دستاربندی کی گئی۔پروگرام میں قصبہ اور قرب و جوار سے علماء کرام ائمہ کرام اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔نیز طلبہ نے اپنی تقاریر نعت اور نظموں سے سامعین کو مسحور کیا۔ جلسہ کی صدارت کررہے مفتی عمران قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند نے حافظ قرآن اور مدارس اسلامیہ کی اہمیت اور فضیلت پر مفصل خطاب کرتے ہوئے کہااتنی کم عمری میں اتنی بے شعوری کی زندگی میں ان کے دلوں میں اللہ تعالی نے ایسی محبت اور رغبت پیدا کی کہ انہیں دن و رات یہی شوق ہے کہ قران کریم کا اتنا حصہ یاد کر کے استاد محترم کو سنانا ہے اور اتنے دنوں میں مجھے اتنے پارے مکمل کر لینے ہیں، اتنے دنوں کے اندر قران کریم کو مکمل کرکے اپنے سینے میں محفوظ کر لینا ہے یہ شوق اور یہ محبت اللہ کی جانب سے عطا کی ہوئی ہے۔ مفتی عمران اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ اگر لوگ قرآن پاک کی تلاوت ترک کردیں تب بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت میں انسانی عمل کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو قرآن کریم پڑھتے ہیں حفظ کرتے ہیں وہ بھی خود قرآن کی برکت سے محفوظ ہوجاتے ہیں،یہ قرآن کریم سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اور مکاتب کی یہ خدمات ضائع ہرگز نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم حفظ کرنے والے طلبہ عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ یہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ان کو اولیا کہاگیا،یہ اللہ سے خاص رفاقت رکھنے والے لوگ ہیں۔لیکن ساتھ ہی ساتھ امتیاز حاصل ہونے کی وجہ سے انکی ذمہ داری اور بڑھ گئی۔ مفتی عمران اللہ قاسمی نے مدارس کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی اور عوام سے اپیل کی کہ ان مدارس کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجیں نیز ان مدارس کا بھرپور تعاون کریں انکا خیال رکھیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تجوید و قرأت کے استاذ مولانا قاری آفتاب احمد نے معاملات معاشرت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ ہم قران وحدیث کے مطابق کتنا عمل کررہے ہیں ہمارے معاملات تجارت اخلاق کیا شریعت کے مطابق ہیں یانہیں؟اور حال یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ قاری آفتاب احمد نے کہا کہ اگر کسی کو اپنے بچے کی شادی کرنی ہے تو کوئی مولانا صاحب سے مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نہیں آئیگا،اگر مولانا صاحب کسی غلط بات کو منع بھی کریں گے تو الٹا انہیں سمجھانے کی کوشش کریگا، انہوں نے کہا کہ ہمیں تجارت،معاملات معاشرت اخلاق شادی بیاہ طلاق وغیرہ سے متعلق باتیں علماء سے معلوم کرکے عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس سے متعلق سوالات کریں گے کہ مدارس والے عصری تعلم نہیں دے رہے ہیں۔












