کانپور،سماج نیوز سروس : ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی اداروں کے مؤثر کردار، نسل نو کی اخلاقی و فکری تربیت اور باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے مقصد کے تحت جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیرِ اہتمام شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی زیر سرپرستی، جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ میں شہر کے اسکولوں کے منتظمین کی ایک عظیم الشان مشاورتی نشست ”ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اسکولوں کا کردار“ کا انعقاد کیا گیا۔ نشست میں شہر کے تعلیمی اداروں کے منتظمین، ماہرین تعلیم،علماء کرام اور جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے شرکت کی۔پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی کرناٹک سے تشریف لائے ملک کے معروف ماہر تعلیم مولانا خالد بیگ ندوی فاؤنڈر ’DAPS‘کرناٹک نے اپنے تفصیلی خطاب میں اسکولوں کے ذمہ داران سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ قومیں محض جلسوں سے نہیں بلکہ اداروں سے بنتی ہیں۔ آپ جو اسکول چلا رہے ہیں، وہ دراصل نسلوں کو بنانے کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ مولانا نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم نے علم کو ”دینی“اور ”دنیوی“خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چودہویں صدی تک مسلمان میتھ، سائنس، میڈیکل اور دیگر علوم کو بھی رضائے الٰہی اور دین سمجھ کر حاصل کرتے تھے۔ جب تک تعلیم کو اللہ کے نام (اقراء باسم ربک) کے ساتھ نہیں جوڑا جائے گا، وہ نفع بخش ثابت نہیں ہو سکتی۔مولانا ندوی نے نئی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) اور نیشنل کریکولم فریم ورک کے چیلنجز پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ تعلیم کے نام پر خاموشی سے ایک مخصوص کلچر تھوپا جا رہا ہے، اس کا مقابلہ ”کوالٹی ایجوکیشن“ فراہم کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسکول منتظمین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی ’روحانی اور جذباتی تربیت‘ پر بھی توجہ دیں۔ اس کے لیے اساتذہ کی جدید خطوط پر ٹریننگ اور والدین کے ساتھ ’پیرنٹس ٹیچرز ٹریننگ‘ (PTT) کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اجلاس کے روح رواں مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اتر پردیش نے فرمایا کہ مسلمانوں کی کامیابی اور ترقی کی بنیاد تعلیم ہے۔ اسکول صرف عمارتوں یا نصابی کتابوں کا نام نہیں، بلکہ یہاں سے قوم کا مستقبل اور کل کے قائدین تیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام اور سماجی اقدار کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے بچے ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن اخلاقی اعتبار سے کھوکھلے ہو رہے ہیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ علماء اور اسکولوں کے منتظمین کے درمیان موجود دوری اور کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔












