(بھاگل پور،پریس ریلیز) انجمن باغ و بہار ،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام مدھے پورہ میںپروفیسر محمد احسان (صدر شعبہ اردو بی۔این۔منڈل یونیورسٹی) کی صدارت میںشاد عظیم آبادی کے یوم وفات ایک ادبی تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے شاد عظیم آبادی کے حیات و ادبی کارنامے کی روشنی میں کہا کہ کھلونے سے کھیلنے والا شاعر خان بہادر شاد عظیم آبادی اردو ادب کی تاریخ کا ایک روشن مینار ہے۔ جب ہم میر،سودا،غالب،مومن کا ذکر کرتے ہیں تو شاد عظیم آبادی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ وہ بیک وقت غزل گو،قصیدہ گو،مرثیہ نگار،مثنوی نگار،رْبائی گو،قطعہ گو،سوانح نگار،ناقد،مکتوب نگار،ناول نگار،محقق تھے۔انکی غزلیں سادگی اور ترنم، شیرنی، کیف و سرور اور تازگی کی عمدہ مثال ہے ۔انہوں نے لگ بھگ بارہ سو غزلیں،سات سو کے قریب رباعیات اور 48مرثیے لکھے۔ ۔ انکا اصل نام سید علی محمد اور تخلص شاد۔والد کا نام سید اظہار حسین عرف سید عباس مرزااور والدہ کا نام عارفہ بیگم۔ پیدائش جنوری 1846ء کو پورب دروازہ ،عظیم آباد، پٹنہ میں اور وفات 7جنوری 1927ء پٹنہ میں۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کی اور شاعری میں بیت بازی سے۔انکی نثری تصنیف کی ابتدا النصائح البعیان سے ہوتی ہے۔انکی تصانیف کی تعداد لگ بھگ ساٹھ ہے۔انکی تصانیف میں کلام شاد،میخانہء،بادہ عرفان،رْباعیات شاد،مراثی شاد، سروش ہستی،فروغ ہستی،زبور عرفاں،مادر ہند، چشمہء کوثر، بدھاوا،شاد کی کہانی شاد کی زبانی،صورت الخیال، 1876 (ولایتی کی آپ بیتی)،افیونی،اْردو تعلیم،نوائے وطن، کشکول،مثنوی نالہ شاد، نالہ دلکش،نغمہء جاں ،یاد حبیب، ثمرہء زندگی،فغان دلکش،نوید ہند وغیرہ اہم ہیں۔اْنہیں 1889ء میں خان بہادر کا خطاب ملا۔اس موقع پر پروفیسر محمد احسان نے کہا کہ شاعری کی کوئی صنف ایسی نہیں جس کو شاد عظیم آبادی نے اظہار خیال کا ذریعہ نہیں بنایا ہو لیکن انکی شخصیت کا اصل جوہر غزلوں میں کھلتا ہے ، انہوں نے شاد عظیم آبادی کے چند مشہور اشعار بھی سنائے۔ڈاکٹر شبنم پروین نے کہا کہ شاد عظیم آبادی اپنے آپ میں ایک دبستان تھے۔ ڈاکٹر نور اشرف نے کہا شادعظیم آبادی کی شاعری میں سوز و گداز کا عنصر بہت زیادہ ہے۔نشست میں شامل ڈاکٹر محمد نسیم ،پروفیسر چندرا پر کاش سنگھ،پروفیسر بمل ،اْم کلشوم ،شمع پروین نے شاد عظیم آبادی کے حیات و فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔












