اللہ نے قرآن کریم کو انسانوں کی ہدات کیلئے رمضان میں نازل فرمایا؛ الحمدللہ بتوفیق الہی اہل ایمان نے اسکی تلاوت بھی کی اور وہ لوگ بھی بہت خوش قسمت ہیں جنہوں نے اسے سمجھنے اور سمجھانے کا اہتمام بھی کیا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ؛
قوموں کو عروج اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جو اقوام خدا سے بے نیاز ہوکر زندگی بسر کرتے ہیں زوال ان کا مقدر ہے۔ ہدایات ربانی پر عمل کرنے سے دنیا کی راحت، آخرت کا سکون یقینی ہے۔ منکر آخرت و خدا بیزار لوگ کس طرح نشانہ عبرت بناکر رکھ دئیے گئے ہیں، جن کی داستان حقیقت قرآنی صفحات کے علاوہ غیبی شہادت کے طور پر اب بھی دنیا کے مختلف مقامات پر موجود ہے، جسے ہر آدمی اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکتا ہے اور قرآنی آیات کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے درس عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمرؓ جن کی خلافت کے زمانے میں ملت اسلامیہ کو عروج حاصل تھا، آپ نے ایک صحابیؓ سے گفتگو کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی:
”حضرت عمرؓ نے کہا: (ہاں واقعی) تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعہ سے نیچا گراتا ہے“۔
یعنی اس پر عمل پیرا ہونے والے سرفراز ہوں گے۔ جبکہ اس سے اعراض کرنے اور اس کی تعلیمات کو رد کرنے اور انکار کی روش اختیار کرنے والے نامراد ہوں گے۔
خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کے ذکر کی طرف توجہ دلانے والی چیز قرآن حکیم کو چھوڑ بیٹھنے کا یہ نتیجہ برآمد ہورہا ہے کہ ہماری اکثریت کا رشتہ خالق کائنات سے ٹوٹ چکا یا کمزور ہوچکا ہے۔ قرآن حکیم سے انسان کا رجوع نہ ہونا یا اسے فراموش کرنا یہ ایسا مرض ہے کہ اس کے بعد انسان دنیا میں بے لگام ہوکر جو چاہے کر بیٹھتا ہے، جو لوگ سرے سے قرآن کو نہیں جانتے وہ تو اپنی من مانی کرتے ہیں اور انہیں سیدھی راہ بتانے کے لئے اہل ایمان کو کوشش کرنی ہی ہے۔ لیکن ہم نے جو قرآن کے حامل ہونے کے باوجود عامل قرآن نہ بن سکے، الا ماشاءاللہ، ہم اپنے اعمال پر نظر کریں۔
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی وہ گفتگو ہمارے سب کے لئے درس عظیم ہے جو انہوں نے اپنی قید مالٹا سے واپس ہونے کے بعد بڑے بڑے علماءکرام کے سامنے رکھی، فرماتے ہیں کہ میں نے جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں۔ تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرا آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لئے میں وہیں سے یہ عزم کرکے آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درس کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کروایا جائے اور قرآنی تعلیم پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔
ملک کے اس مرد مجاہد و نباض نے جیل کی صعوبتوں اور مصیبت و دشواریوں کے باوجود قوم کی پستی اور زوال کے اسباب کو تلاش کرتے رہے، چنانچہ انہوں نے درس قرآن کا سلسلہ شروع فرمایا، جبکہ وہ ضعیف ہوچکے تھے اور اس پیرانہ سالی میں مصروفیات بھی بہت تھیں، باوجود اس کے انہوں نے اپنی قوم و ملت کے لئے قرآن حکیم کو عام کرنے اور اسے عوامی بنانے کے لئے اس کا آسان و سہل ترجمہ بھی فرمایا، اور اس
سلسلہ میں ایک قدم آگے یہ بہترین کام کیا گیا کہ اس کا خلاصہ اور معانی و مطالب کو حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تفسیر عثمانی کی صورت میں عوام کے سامنے رکھ دیا۔ ہمارے ان اکابرین نے لوگوں کو قرآن سے جوڑنے، اللہ کے بندوں کو رجوع الیٰ القرآن کروانے کے لئے اتنی محنت کی ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن کو جو اللہ کی طرف سے دستور حیات بناکر اتارا گیا ہے جو ہر انسان و ہر مسلمان کو اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اسے نافذ کرنا پڑے گا، کیونکہ انسانی زندگی کے ہر نشیب و فراز میں اور زندگی کی تمام مشکلات میں آسانی سے آگے بڑھنے کے لئے شاہ کلید کا کام کرتا ہے۔ رجوع الیٰ القرآن انسان کے لئے صرف دنیوی فائدے حاصل کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کے جو بنیادی احکام ہیں وہ یہ کہ انسان اپنے شب و روز کے تمام افکار و خیالات میں توحید باری تعالیٰ کو پیش نظر رکھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یکتائی و بڑائی کے عقیدے کے بغیر دنیا کی کامیابی‘ کامیابی نہیں۔
دوسری چیز رسالت نبی کو پورے ایمان و یقین کے ساتھ قبول کرنا ضروری ہے، کیونکہ نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندگی رب کا صحیح طریقہ بتلانے مبعوث فرمائے جاتے ہیں، اس طرح آپ کے بارے میں قرآن نے اس بات کی شہادت یوں دی ہے:
وما آتاکم الرسول فخذوہ و ما نہاکم عنہ فانتھوا (سورة الحشر: ۷)
جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں اس سے رک جاﺅ۔
اس طرح اللہ کے رسول کی رسالت کو تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے، کیونکہ آپ ہمیں اس کتاب قرآن حکیم کی تعلیمات پر اپنی حیات طیبہ میں عمل کرکے کھلا دیا۔ آدمی جب قرآن سے اپنے کو رجوع کرتا ہے تو اسے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ رسول کی پیروی کئے بغیر اللہ کی رضا و خوشنودی کے راستے معلوم نہیں ہوتے۔
اس طرح توحید، رسالت کے بعد قرآن مجید کی تعلیمات میں آخرت پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیونکہ تصور آخرت کے بغیر انسان اپنی زندگی میں اپنے کو بے لگام و آزاد سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے، تصور آخرت کے بغیر حضرت انسان وہ وہ کارنامہ حیات انجام دیتا ہے کہ شیطان کو بھی شرم آجائے۔
قرآن حکیم جن جن قوموں کی تباہی و بربادی کی داستان عبرت بیان کرتا ہے اگر ان قوموں کی روداد کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں سب سے بڑا عنصر تصور آخرت کو جھٹلانا ہے۔
اس طرح آدمی جب رجوع الیٰ القرآن کی طرف اپنے کو تیار کرلے گا تو یقینی طور پر اسے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ زندگی بعد الموت کا تصور جتنا مضبوط ہوگا انسان کی زندگی تمام گندگیوں سے دور رہے گی، کیونکہ اسے ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ایک دن مجھے مرنا ہے، زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے، یہ تصور جتنا ذہن پر چھائے رہے گا پھر اس کے بعد اس کی زندگی بے بندگی نہ رہے گی۔ آج سب کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کی اہمیت کو سمجھیں اور اس سے جڑ جائیں، کیونکہ انسان جن جن چیزوں کی طرف نظر التفات کیا ہوا ہے وہ ناپائیدار ہے۔ انسان دولت سمیٹے، مکانات تعمیر کرے، محلات بنائے، انڈسٹری لگائے، یا اس کے پاس ہزاروں ایکڑ پر مشتمل جاگیریں ہوں مگر یہ سب چیزیں نہ اسے سکون کی دولت دے سکتی ہیں اور نہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت فراہم کرسکتی ہیں۔ ہاں سب سے بہتر اگر کوئی چیز ہمارے سامنے موجود ہے اور قیامت تک باقی رہنے والی ہے وہ ہے قرآن حکیم کی دولت، یہ ایسی دولت ہے جو انسان کی بقا و سلامتی کی ضمانت دیتی ہے، کیونکہ قرآنی تعلیمات یہ چیز واضح کرتی ہے کہ دنیا میں وہی قوم عروج حاصل کرتی ہے جو شکر کا رویہ اختیار کرتی ہے، رہے وہ لوگ جو کفر کی روش پر چل پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں زندگی کی چند گھڑیوں کے لئے مزے حاصل کرنے چھوڑ دیتا ہے، اور آخرکار تباہی اور زوال سے انہیں دوچار کردیتا ہے، گویا کہ سپاس و احسان مندی کے بجائے کفر و انکار کی راہوں پر چلنے والے بلندی سے پستی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اس طرح شکر و کفر کی ترازوہی ارتقا و تنزل کی داستان رقم کردیتی ہے۔ قرآن میں عروج و زوال کے بہت سے واقعات موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انہیں نعمتوں سے نوازا اور انہیں اقتدار بخشا، مگر انہوں نے ناشکری و ناقدری کی روش پر چل کر کیفر کردار تک پہنچ گئے۔
آج بھی اگر ہم اپنی پستی و تنزل کی کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں، عروج پر پہنچنا چاہتے ہیں اور کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی جستجو ہو تو ہمیں چاہیے کہ قرآن سے اپنے رشتہ کو مضبوط جوڑ لیں، رمضان المبارک کا اب اختتام ہونے کو ہے اسکی رحمت اور مغفرت کی اہم ساعتیں ہمیں ملی ہیں اور چند گھنٹوں بعد ان شاءاللہ ہم عید الفطر منایئں گے اور اللہ کا شکر ادا کرنے عید گاہ جائیں گے اسکی کبریاءبیان کریں گے اور اللہ تعالی سے یہ امید بھی کرتے ہیں کہ وہ ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرماکر ہمیں اپنے گھروں کو لوٹادے گا اسطرح اب ایک نءزندگی ہماری شروع ہونے کو ہے ؛ اللہ تعالی ہمیں ایک ماہ کی تربیت کے بعد آئندہ آنے والی زندگی میں پھر ہماری آزمائش فرماے!!! لہٰذا ہمارے شب روز سے رمضان المبارکہ کے اثرات آگے کی زندگی میں بھی ظاہر ہوتے رہیں۔ اس کے لئے آج بھی ہمارے پاس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہی سب سے بڑا اور آخری سہارا ہے، اس کے بغیر دنیا و آخرت کی بھلائی ناممکن ہے ان بنیادی باتوں کو پس پشت ڈالکر عروج کے خواب دیکھنا حقیقت سے دور کی چیز ہوگی اور خواب صرف ایک خواب ہی ثابت ہوگا، البتہ ہم اچھے خواب ضرور دیکھیں مگر خواب ہی میں گم نہ ہوجائیں۔ منیر نیازی، خواب سے نکل کر کچھ کرنے کی طرف متوجہ فرماتے ہیں: ”خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے‘ مگر ان میں جاکر رہا نہ کرو“












