بلند شہر ،سماج نیوز سروس:جہانگیر آباد تھانہ علاقے کے جسیر گاؤں میں ہفتہ کو ایک بچے کے اغوا کی خبر نے محکمہ پولیس میں ہلچل مچا دی۔ رات دیر گئے پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہی) کی مداخلت کے بعد بالآخر معاملہ واضح ہو گیا۔ تین نوجوان ڈاکٹر کی بیٹی کو لینے آئے تھے لیکن غلطی سے مریض کی 10 ماہ کی بیٹی وندنا کو لے گئے۔یہ واقعہ ہفتہ کی دوپہر 12 بجے کے قریب پیش آیا۔اطلاع کے مطا بق جسیرگائوں کی رہنے والی وندنا اپنی بیٹی نمشا کو گاؤں کے ڈاکٹر سمے سنگھ کے پاس دوا دلانے کے لیے لائی تھی۔ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار تین نوجوانوں نے وندنا کو روکا اور بچے کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ابتدائی طور پر اسے اغوا کی واردات سمجھا گیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نوجوان ڈاکٹر کے رشتہ دار تھے اور اس کی 6 ماہ کی بیٹی پلوی کو لے کر جا نا تھا۔ بچی کو لے جانے والے انوج، اس کا بھائی ریتک اور دوست نکول بچے کو لے جانے والوں میں شامل تھے۔ انوج کے والد راجندر جو ڈاکٹر سمے سنگھ کے پھو پھا سسر ہیں ، اپنے بیٹے کے ساتھ بچی کوگاؤں واپس لے آئے۔ پولیس نے انوج کو تھا نے بلاکر اس سے پوچھ تاچھ کی ،جس کے بعدسارا واقعہ صاف ہو گیا۔ دراصل، وہ عوامی سہولت مرکز (جن سیوا کیندر) سے پیسے نکالنے گئے تھے اور غلطی سے وندنا کی بیٹی کو اٹھا کر لے گئے ۔ایس پی دیہات ڈاکٹر تیجویر سنگھ نے بتایا کہ ماں کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سارا واقعہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا اور اس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔












