نئی دہلی،پریس ریلیز،ہماراسماج: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بنگلور میں منعقد جمعیۃ علماء کرناٹک کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں فرقہ پرست طاقتیں پوری منظم حکمتِ عملی کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے اور سماج کو انسانیت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ راہ چلتے بے گناہ مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، دن دہاڑے ماب لنچنگ کی جاتی ہے اور پھر مظلوم ہی کو مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کے پاس اگرچہ حکومت اور اقتدار کی طاقت ہے، لیکن ہمارے پاس پیار، محبت، انسانیت اور ملک کے آئین کی وہ طاقت موجود ہے جس کے سہارے ہم ان سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نہ کبھی نفرت کے راستے پر چلی ہے اور نہ کبھی چلے گی، بلکہ اس کا پیغام ہمیشہ امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی رہا ہے۔ ہم ہندو یا مسلمان نہیں دیکھتے، ہم انسان دیکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر خدمت کرتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں جمعیۃ کی جانب سے جس پیمانے پر امدادی کام انجام دیے گئے، اس کے گواہ وہ علاقے اور وہاں کے لوگ ہیں جنہوں نے کھلے دل سے اس خدمت کا اعتراف کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں کے آباؤ اجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، جیلیں کاٹیں، جانوں کی قربانیاں دیں اور اس ملک کو آزاد کروایا، آج انہی کی اولاد کو دیش دروہی کہا جا رہا ہے۔ اسی قوم کے نوجوانوں کو جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسا کر ان کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند ملک بھر میں مظلوموں کے مقدمات لڑتی ہے، نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک ان کی پیروی کرتی ہے، اور ایک طویل فہرست ان بے گناہوں کی موجود ہے جنہیں جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں باعزت بری کرایا گیا۔ ہم مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلومیت اور انسانیت کی بنیاد پر مقدمات لڑتے ہیں۔ فرقہ پرست طاقتیں الزام لگاتی ہیں کہ ہم دہشت گردوں کا مقدمہ لڑتے ہیں، لیکن ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ہم دہشت گردوں کا نہیں بلکہ مظلوموں کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ آج فرقہ پرستی کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں، جس کا خمیازہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اور دیگر اقلیتیں بھی شدید گھٹن محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے میاں مسلمانوں سے متعلق بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں میاں مسلمان کہلانے میں کوئی عار نہیں، کیونکہ میاں مسلمان اسلام پر جیتا ہے اور اسلام پر ہی مرتا ہے۔ ایسے بیانات ایک خاص ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو زبان اور رویّے سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔مولانا مدنی نے آسام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ این آر سی کے معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے قانونی جدوجہد کی، انہوں نے کہا کہ آسام میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر اکثریت کی نظر میں مشکوک بنانے کی مسلسل کوشش کی گئی، (بقیہ صفحہ 2 پر)












