تہران(ہ س)۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہاے کہ ’امریکہ کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کا فیصلہ ملکی مفادات کی بنیاد پر کریں گے، خالص جذبات کی بنیاد پر نہیں، چاہے وہ مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیوں نہ کریں۔‘ایرانی وزیر خارجہ نے یہ وضاحت صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے اگلے دور کے انعقاد کے بارے میں بیانات کے جواب میں کہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اندرونی طور پر بات چیت کی جا رہی ہے، لیکن ابھی تک امریکہ کے ساتھ ’کوئی معاہدہ‘ نہیں ہو سکا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "صاف کہوں تو امریکہ کو مذاکرات میں یورپ کی موجودگی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔عباس عراقچی نے کہا کہ ’یورپ کو امریکہ کے ساتھ ہمارے مذاکرات سے باہر رکھا گیا تھا، اور امریکی یہی چاہتے تھے۔‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یورپ کسی طرح سے مذاکرات میں داخل ہونا چاہتا ہے، اور ہمیں کوئی ممانعت نظر نہیں آتی۔‘بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کے بارے میں پارلیمنٹ کی قرارداد پر عباس عراقچی نے کہا کہ اس قانون نے راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا اور اسے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’رافیل گروسی کی تیار کردہ رپورٹ نے مغربی ممالک کے فیصلے کی راہ ہموار کی اور ہماری رائے میں اس نے ایران پر حملے کی راہ ہموار کی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہماری رائے میں رافیل گروسی نے ’ایک ایماندارانہ رپورٹ نہیں دی اور جان بوجھ کر 20-25 سال پرانا ایک مدعا اٹھایا‘۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے جوہری تنصیبات پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ کو ذاتی طور پر اس کی مذمت کرنی چاہیے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔












