کھنوری بارڈر پر گولی لگنے سے دو کسانوں کی موت، پنجاب کانگریس کے صدر نے ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی ، پولیس انتظامیہ نے اس کو افواہ قرار دیا ، 12؍پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی تصدیق
کسانوں کی تحریک پر ایک نظر
اب تک کسانوں کے ساتھ چار دور کی بات چیت ہوچکی
پانچویں دور کی بات چیت کے لیے تجویز پیش کی گئی
کسانوں میں دو گروپ، ایک مذاکرے کو تیار، دوسرانہیں
مودی حکومت پر اب کسانوں کا اعتمادروزبروز گھٹتا جا رہا ہے
نئی دہلی ،ہمارا سماج نیوز سروس :ایم ایس پی کو قانونی درجہ دیے جانے ، مہنگی بجلی کو سستی کرنے ، کسانوں کو معاوضہ دیے جانے اور کسانوں پر درج مقدمات کو ختم کرنے جیسے مطالبات کے ساتھ دہلی چلو کا نعرہ دیا ہے جس کے سبب دہلی کی سرحدوں پر حالات دھماکہ خیز ہیں۔ آج اس وقت مزید حالات کشیدہ ہو گئے جب یہ خبر عام ہوئی کہ کھنوری بارڈر پر دو کسانوں کی موت ہو گئی ، کئی کسانوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے لیکن یہ بھی خبر ہے کہ پولیس کے قریب ایک درجن جوان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کے ساتھ چوتھے دور کی بات چیت ناکام ہونے کے بعد کسانوں کی جانب سے آج دہلی چلو کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب کسانوں کی جانب سے اس کو دو دنوں کے لیے مزید ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ اب کسان دہلی کے لیے جمعہ کو مارچ کریں گے ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 5؍فصلوں پر ایم ایس پی دینے کو منظوری دی ہے تاہم کسان اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ علاوہ ازیں کسانوں کے دہلی چلو اعلان کے بعد انتظامیہ کی جانب سے ہائیڈرولک کرین، جے سی بی اور بلٹ پروف پوکلین جیسی بھاری مشینری شمبھو بارڈر پر لائی گئی ہے۔ کھنوری بارڈر پر گولی لگنے سے دو کسانوں کی موت کی اطلاع ہے۔کسان رہنما کاکا سنگھ کوٹرا نے بتایا کہ 23 سالہ شوبھاکرن سنگھ ولد چرنجیت سنگھ، گاؤں والو ضلع بھٹنڈہ، سنگرور کی کھنوری سرحد پر مر گیا ہے۔ متوفی کی لاش کو راجندرا اسپتال پٹیالہ میں رکھا گیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔ہریانہ پولیس نے داتا سنگھ والا کھنوری سرحد پر دو کسانوں کی موت کو افواہ قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو پولیس اہلکار اور ایک مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ جند کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت کمار نے کہا کہ فی الحال کسی کسان کی موت نہیں ہوئی ہے۔ ایک کسان شدید زخمی بتایا جاتا ہے۔ کسانوں نے دھان کے بھوسے کو آگ لگا کر اور مرچیں ڈال کر پولیس پر حملہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی کسانوں نے پولیس پر تلواروں اور چاکووں سے حملہ بھی کیا ہے۔ اب تک 10 کے قریب پولیس شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ٹوہانہ بارڈر پر تعینات ہریانہ پولیس کے ایس آئی وجے کمار کا انتقال ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ جب اسےاسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔تنظیم مرکزی وزراء کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے متفق نہیں ہے۔ کچھ کسان رہنما مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن کچھ کا خیال ہے کہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں اب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ اس گروہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ نوجوان بہت مشتعل ہیں اور اگر آگے بڑھنے کی صورتحال بار بار خراب ہوئی تو وہ ہنگامہ برپا کریں گے۔ احتجاجی مقام پر کئی نہنگ آگے بڑھنے کے بیانات بھی دے رہے ہیں، دوسری طرف ہریانہ پولیس ایک بار پھر پنجاب کے دائرہ اختیار میں ڈرون کے ذریعے گولے پھینک رہی ہے۔ پنجاب پہلے ہی اس پر اپنا اعتراض ظاہر کر چکا ہے۔












