دیوبند ،سماج نیوز سروس: محلہ قلعہ میں واقع مدراکیڈمی اسکول کے قیام کے 40 برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ و طالبات کو اسناد و اعزازات سے نوازا گیا اور اسکول کے بانی مرحوم ارشد علی خاں ایڈوکیٹ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے ناظم اور معروف کالم نگار اشرف عثمانی دیوبندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام میں علم کی حیثیت نہایت بلند اور اس کی فرضیت بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام کی بنیاد ہی علم پر رکھی گئی ہے، چنانچہ قرآن مجید کی پہلی وحی‘‘اقرأ’’(پڑھو) سے آغاز ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام جہالت نہیں بلکہ علم و آگہی کا دین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے علوم عطا فرمائے، لیکن اس کے باوجود آپؐ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہے:‘‘اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما’’۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علم کی طلب ایک مسلسل عمل ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام نے ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے، کیونکہ علم ہی انسان کو حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے اور زندگی کو صحیح راہ پر گامزن کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم حج و عمرہ کے موقع پر آبِ زم زم پیتے ہیں تو اس کے ساتھ جو دعا سکھائی گئی ہے، اس میں سب سے پہلے علمِ نافع کی طلب کی جاتی ہے:‘‘اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں’’۔ یہ ترتیب اس بات کی دلیل ہے کہ علم کو دیگر نعمتوں پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ درست علم ہی صحیح عمل کی بنیاد بنتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم علم کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اسے اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے لیے حاصل کریں۔اس موقع پر ندیم اختر (سی اے) نے کہا کہ محنت، لگن، یکسوئی اور مکمل توجہ کے ساتھ حاصل کیا گیا علم ہی شاندار نتائج پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین، سرپرستوں اور اساتذہ کو مل کر بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اسکول کے 40 سال مکمل ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔مدراکیڈمی اسکول کے صدر احمد خان نے اسکول کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 1986 میں ارشد علی خاں ایڈوکیٹ نے محدود وسائل کے باوجود محروم طبقات تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے مقصد سے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی، جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔اسکول کے خازن سلیم اختر نے ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ معروف کالم نگار سید وجاہت شاہ (کمل دیوبندی) نے اساتذہ اور سرپرستوں کے درمیان متوازن اور تعمیری ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا۔ ادارہ کے سرپرست اسجد علی خان نے مہمانوں کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت وجاہت شاہ اور احمد خان نے مشترکہ طور پر انجام دی۔آخر میں یسریٰ فاطمہ، منزہ پروین، محمد ارشد انصاری اور دیگر مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں طلبہ و طالبات میں اسناد و اعزازات تقسیم کیے گئے۔












