کانپور19،جنوری،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء شہرکانپور کے زیر اہتمام شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی سرپرستی اور ریاستی ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی زیر نگرانی رجبی گراو?نڈ پریڈ میں جاری سہ روزہ تاریخی اجلاس معراج النبیؐ اپنے مفید اثرات اور روحانی کیفیات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کے آخری دن کی خاص نشست ’’مشاعرہ نعت و مدح صحابہؓ‘‘ کے نام رہی، جس میں ملک کے نامور شعراء کرام نے بارگاہ رسالت مآبؐ اور آپؐ کے صحابہؓ و اہل بیت ؓ کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مفتی محمد راشد اعظمی اور مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے شیخ الحدیث مولانا شاہ افضال الرحمن کے کلیدی خطابات ہوئے۔اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر رسول پاک ؐ کا ذکر بلند فرمایا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ؐ اپنی قبر اطہر میں حیات ہیں اور جب کوئی امتی دور سے سلام بھیجتا ہے تو فرشتے پہنچاتے ہیں اور جب قریب سے سلام پیش کرتا ہے تو آپؐ خود سماعت فرماتے ہیں۔ مفتی صاحب نے واقعات کی روشنی میں بتایا کہ حضورؐ رحمت اللعالمین ہیں، آپ نے ہمیشہ مانگنے والوں کو عطا کیا اور کبھی کسی سائل کو محروم نہیں لوٹایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا میں جو دین کی بہار ہے یہ سب نبی کریم ؐ کی ہی لگائی ہوئی پود ہے۔ انہوں نے حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوریؒ کے حوالے سے فرمایا کہ اگر امت تین چیزوں کا اہتمام کرلییعنی چہرے پر سنت رسول ؐ’’داڑھی‘‘، سر پر ٹوپی اور پانچوں وقت کی باجماعت نماز،تو اسلام کی برکات و ثمرات ہماری زندگیوں میں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی۔اجلاس کے روح رواں اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے مشاعرہ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ مشاعرہ کوئی رسمی تقریب نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کے رسولﷺ اور ان کے صحابہؓ کی محبت پیوست کرنے کا ایک مشن ہے۔ مولانا نے واضح الفاظ میں کہا کہ تمام صحابہ کرامؓ جنتی، عادل اور ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ انہوں نے حضرت امیر معاویہؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کاتب وحی بھی ہیں اور حضورؐ کے برادر نسبتی ہونے کے ناطے مومنوں کے ماموں بھی ہیں۔ صحابہؓ کے درمیان ہونے والے اختلافات میں خاموشی اختیار کرنا ہی اہل حق کا شیوہ ہے، کسی بھی صحابی کی شان میں گستاخی کرنے والا اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔ بیانات کے بعد مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں ملک کے ممتاز شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کے دلوں کو گرمایا۔ منتخب اشعار درج ذیل ہیں:
سامانِ تجارت مرا ایمان نہیں ہے
ہر در پہ جھکے سر یہ مری شان نہیں ہے
ڈاکٹر ماجد دیوبندیؔ
کلامِ رب کے مقابل ذخیرۂ تاریخ
کبھی کرے نہ یہ بد ظن معاویہؓ سے ہمیں
یقین فیض آبادیؔ
ظلم کی جبر کی بدلیاں چھٹ گئیں
کفر و باطل پہ یک دم زوال آ گیا
تاج رحمت کا سر پہ سجائے ہوئے
جس گھڑی آمنہ بی کا لال آ گیا
طارق جمیل قنوجیؔ
سنو فرما دیا ہے مصطفیٰؐ نے صاف لفظوں میں
صحابہؓ کا نہیں ہے جو ہمارا ہو نہیں سکتا
اسد اعظمیؔ
تھا سفر معراج کا اور ہم سفر جبریل تھے
وقت جیسے آپؐ کی رفتار میں گم ہوگیا
اشفاق بہرائچی
فہیم انؐ کے روضے پہ جا کر کہوں گا
مرا نعت پڑھنا ہی کام آ گیا ہے
فہیم پہانویؔ
نظامت کے فرائض معروف ناظم مشاعرہ مجاہد حسنین حبیبی نے بحسن وخوبی انجام دئیے، مشاعرے کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اجلاس میں خاص طور پر مدرسہ مظہر العلوم نکھٹوشاہ کے صدر المدرسین مفتی اقبال احمد قاسمی، قاضی شہر کانپور حافظ معمور احمد جامعی، حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاو?نڈیشن کے چیئرمین مفتی عبد الرشید قاسمی بطور خاص موجود رہے۔ آخر تک ہزاروں کی تعداد میں موجود رہے سامعین ہمہ تن گوش رہے سبحان اللہ، سبحان اللہ کی صدائیں گونجتی رہیں عشق نبیؐ و صحابہؓ میں ڈوب کر کہے گئے اشعار دلوں کے ساز کو چھیڑتے رہے اور لوگوں پر سرور ومستی کی کیفیت طاری رہی۔
شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں اور ریاستی ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے تمام مہمان علماء، شعراء، شرکاء اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ دیر شب مولانا خلیل احمدمظاہری کی دعا پر مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔












