دیوبند ،سماج نیوز سروس: ہمارے معاشرے میں اس وقت تعلیم کے حوالے سے ایک خاموش مگر گہری کشمکش جاری ہے۔ ایک طرف مدارسِ دینیہ اپنی روایتی عظمت، روحانیت اور علمی وراثت کے ساتھ قائم ہیں، تو دوسری طرف جدید تعلیمی نظام اپنی وسعت، افادیت اور عملی تقاضوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے پر حاوی نظر آتا ہے۔ انہی دو دھاروں کے درمیان ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو تذبذب کا شکار ہے کہ آخر نئی نسل کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟ محض دینی تعلیم، یا دینی و عصری علوم کا امتزاج؟۔ان خیالات کا اظہار مدرسہ مظاہر العلوم وقف کے محصل مولانا ابرارالحق نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں گردش کرنے والا ایک پیغام اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مدارس کے ذمہ داران سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ اگر ان کے پاس سرکاری‘‘منظوری (recognition) نہیں ہے تو وہ بچوں کو داخلہ نہ دیں، بلکہ صاف طور پر یہ بتا دیں کہ یہاں صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے، تاکہ مستقبل میں طلبہ کو کسی اسکول یا ادارے میں داخلہ لینے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ اور مخلصانہ مشورہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اندر کئی ایسے پہلو پوشیدہ ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مدارسِ دینیہ کا وجود محض ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک تہذیبی و روحانی مرکز کے طور پر ہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ آج کی دنیا میں تعلیم کا مفہوم وسیع ہو چکا ہے۔ اب صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ سائنسی، فنی، معاشی اور سماجی علوم بھی زندگی کے لیے ناگزیر بن چکے ہیں۔ ایک ایسا نوجوان جو صرف ایک محدود دائرے میں تعلیم حاصل کرتا ہے، وہ عملی میدان میں اکثر خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جدید تعلیم کی طرف بھی توجہ دیتے ہیں۔مولانا ابرارالحق نے کہا کہ یہاں اصل مسئلہ‘‘ لالچ’’ کا نہیں بلکہ‘‘ ضرورت’’ کا ہے۔ جدید تعلیم کو محض دنیاوی لالچ قرار دینا ایک یک رخی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید تعلیم ایک ذریعہ ہے ترقی کا، خود کفالت کا، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا۔ اگر اس تعلیم کو دینی تربیت کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے تو یہ ایک ایسی طاقت بن سکتی ہے جو فرد کو نہ صرف دنیا میں کامیاب بنائے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو کرے۔اس پس منظر میں مدارس کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے نظامِ تعلیم کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ اگر کسی مدرسے کے پاس سرکاری منظوری نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے مستقبل کے لیے متبادل راستے فراہم کرے۔ مثال کے طور پر، مدارس میں ایسے نصاب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے طلبہ اوپن اسکولنگ یا دیگر تعلیمی بورڈز سے امتحانات دے سکیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کو مکمل اور واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ مدرسے میں کس نوعیت کی تعلیم دی جاتی ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور اس کی حدود کیا ہیں۔ شفافیت ہی وہ اصول ہے جو اعتماد کو قائم رکھتا ہے اور غلط فہمیوں کو جنم لینے سے روکتا ہے۔












