واشنگٹن،02مئی (ہ س)۔ٹرمپ نے جنوری میں صدارت سنبھالنے سے پہلے اور اس کے بعد حماس کو دھمکی دی تھی کہ غزہ میں تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔اب امریکی صدر نے کہا ہے کہ ہم غزہ سے یرغمالیوں کو جلد از جلد نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے ٹرمپ نے جنوری میں صدارت سنبھالنے سے پہلے اور اس کے بعد حماس کو دھمکی دی تھی کہ غزہ میں تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تاہم امریکی صدر نے غزہ کی پٹی میں کسی امریکی فوجی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا۔قیدیوں کے معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ حماس کی شکست 59 قیدیوں کی رہائی سے زیادہ اہم ہے۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر جاری مذاکرات کے درمیان اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے جمعرات کو دھمکی دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر غزہ میں کارروائیوں کی شدت میں جلد ہی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل ایال زامیر نے حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنانے میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں غزہ میں ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی حال ہی میں اسی طرح کی دھمکیوں کو دہرایا اور کہا ہے کہ حماس جتنی دیر تک یرغمالیوں کو زیر حراست رکھے گی، اسرائیلی حملوں کی شدت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے تھے۔ 19جنوری کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ حماس پر دباؤ جاری رکھے گا یہاں تک کہ وہ پٹی میں باقی رہ جانیوالے تمام یرغمالیوں کو رہا کرا لے۔ اسرائیلی فوج کے تخمینے کے مطابق غزہ میں اب بھی 59 قیدی زیر حراست ہیں جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کی صرف لاشوں کو ہی وصول کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ان تمام ملکوں کو پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دی ہیں جو ایرانی تیل خریدتے ہیں۔ٹرمپ کی طرف سے یہ دھمکی ایسے موقع پر دی گئی ہے جب امریکہ و ایران دونوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے ملتوی ہونے کی اطلاعات آئی ہیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے ‘ایران سے خریدا جانے والا تمام تیل اور پیٹروکیمیکلز کو اب فوری طور پر روک دینا چاہیے۔’انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ‘کوئی ملک یا فرد جو بھی یہ ایرانی مصنوعات خریدے گا وہ امریکہ کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکے گا۔امریکی صدر کا یہ بیان سوشل میڈیا پر اس وقت سامنے آیا ہے جب اومان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس ہفتے کے اختتام تک متوقع مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔اومان کی طرف سے یہ پیغام اومانی وزیر خارجہ بدر البسیدی نے ‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا ملتوی ہونا لاجسٹکس سے متعلق وجوہات کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبوری طور پر یہ 3 مئی کو ہونا طے پائے تھے۔ تاہم اب نئی تاریخ کا اعلان باہمی اتفاق رائے سے بعد میں کیا جائے گا۔وزیر خارجہ بدر البسیدی جو امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کے ہو چکے تین ادوار کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں جاری کی ہے۔ایرنی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الگ سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کا التوا اومانی وزیر خارجہ کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ جبکہ ایران آج بھی اپنی اس کمٹمنٹ پر قائم ہے کہ ایک جائز اور پائیدار معاہدہ ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں امریکہ کی طرف سے مذاکرات کرنے والوں سے جڑے ایک شخص نے کہا ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔تاہم اسی فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ روم میں چوتھے مذاکراتی دور کا امکان قریب ہے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات بند دروازے کی بات چیت ہیں۔ یہ جلد روم میں ہوں گے۔ اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دو دور اومان کی میزبانی میں ہو چکے ہیں۔ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اور اس کے بدلے میں امریکہ ایران پر عاید پابندیاں ہٹا دے گا۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنی دشمنی کے تقریباً پچاس برسوں کے دوران ایران پر کئی بار پابندیاں لگائی ہیں۔ تاہم زیادہ تر پابندیاں حالیہ برسوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔












