واشنگٹن (ہ س)۔واشنگٹن پوسٹ نے ہفتے کے روز حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو برطرف کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انھوں نے ایران کے خلاف فوجی آپشنز کے حوالے سے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔اخبار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر کو برطرف کرنے کی وجوہات میں ان کا سخت گیر خارجہ پالیسی کا موقف تھا۔ والٹز نے ٹرمپ کے موقف کے برعکس رو سی صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف سخت رویہ اپنانے کو ترجیح دی۔اخبار نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ اس وقت غصے میں آگئے جب والٹز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران اس بات پر متفق نظر آئے کہ یہ ایران پر حملہ کرنے کا وقت ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ عہدیداروں کا خیال ہے کہ والٹز فوجی کارروائی کے حق میں ترازو بتانے کی کوشش کر رہے تھے۔اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ والٹز نے ایران کے خلاف فوجی آپشنز کے حوالے سے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے قبل نیتن یاہو کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی پالیسی کو ٹرمپ کی خواہشات کے برعکس سمت میں آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ اخبار نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے اختلاف تھا۔واشنگٹن پوسٹ نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ دیگر سینئر عہدیداروں نے انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے سیاسی طور پر ان کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات سے قبل ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر متفقہ موقف اپنانے کے لیے والٹز کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایکس کے ذریعے کہا کہ وزیراعظم کا ایران کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر والٹز کے ساتھ وسیع رابطہ نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ فروری میں بلیئر ہاؤس میں والٹز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وِٹکوف کے ساتھ دوستانہ ملاقات کی۔ یہ نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے پہلے تھی۔نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے والٹز سے گزشتہ فروری سے صرف ایک بار فون پر بات کی اور اس دوران ایران کے معاملے پر بات نہیں ہوئی۔ والٹز نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم کے واشنگٹن جانے سے پہلے ایک ملاقات میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تب سے نیتن یاہو، والٹز اور وٹکوف کے پاس صرف ایک فون کال ہے جس میں ایران سے متعلق بات نہیں کی گئی۔ٹرمپ نے جمعرات کو قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے طور پر کام کرنے کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ اب سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اپنے موجودہ عہدے کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کریں گے۔












