نئی دہلی، 27 اپریل، سماج نیوزسروس: ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر خواتین پہلوانوں کا احتجاج بدھ کو چوتھے دن بھی جاری رہا ۔آج کھلاڑیوں نے دن کا آغاز سڑکوں پر دوڑ کر کیا۔جموں کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر کھلاڑیوں کی حمایت کی۔ ملک نے کہا کہ یہ بہت بری صورتحال ہے کہ ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑیوں کو انصاف کے لیے سڑکوں پر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔احتجاجی کھلاڑیوں نے بدھ کی صبح احتجاجی مقام پر پریکٹس اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا۔ اس دوران کھلاڑیوں نے دوڑ لگا کر ورزش کی۔ اس کے ساتھ اسے عارضی میدان سمجھ کر تربیت بھی کی گئی۔ پہلوانوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک پسینہ بہایا۔ ستیہ پال ملک وہیل چیئر پر بیٹھ کر دوپہر میں احتجاجی مقام پر پہنچے تھے ۔یہاں انہوں نے کھلاڑیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بھارتی ریسلنگ فیڈریشن کے صدر بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے کھلاڑی ملک کے لیے تمغے لانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں، اس کے باوجود نہ حکومت ان کی سن رہی ہے اور نہ ہی پولیس۔ ہریانہ سے آئی این ایل ڈی لیڈر کرن سنگھ چوٹالہ بھی جنتر منتر پہنچے۔ انہوں نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر طرح سے کھلاڑیوں کے ساتھ ہیں۔اور جلد ہی دوسروں کو ان کی حمایت کے لیے بھیجیں گے۔ کانگریس پارٹی کی قومی سکریٹری اور راجستھان کی شریک انچارج امرتا دھون نے بھی دھرنے کے مقام پر پہنچ کر کھلاڑیوں کا ساتھ دیا۔اس موقع پر اولمپیئن پہلوان بجرنگ پونیا نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ یہاں ٹریننگ بھی کر رہے ہیں۔ ملک کے لوگوں نے ہمیں ملک کے لئے تمغے جیتنے کی ذمہ داری دی ہے اور ہمیں اسے پورا کرنا ہے۔پولیس نے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی تو پولیس ہمیں احتجاج کرنے یا ٹریننگ دینے سے کیسے روک سکتی ہے۔ کھاپ پنچایتوں کے عہدیداروں نے بھی آج اس دھرنے میں خوتین پہلوانوں کا ساتھ دینے موقع پر پہنچے ۔












