بی جے پی کانگریس اور حزب اختلاف سے سیاسی جنگ بری طرح ہار چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب مختلف ریاستوں میں ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے رہی ہے اور اس کی حواری تنظیم بجرنگ دل پوری طرح سرگرم ہو چکی ہے ۔بہار اور بنگال کے بعد اتوار کے روز دہلی سے متصل ضلع سونی پت میں بھی یکایک ماحول کشیدہ ہو گیا اور پولس کو امن و امان کے قیام کیلئے سخت جدوجہد کرنی پڑی ۔پولس اور انتظامیہ حیران ہیں کہ یہ سب کچھ ہوا لیکن کوئی وجہ سامنے نہیں آرہی ہے ۔یعنی بلا اشتعال بلوہ کا یہ اپنی طرز کا ویسا ہی معاملہ ہے جیسا ہریانہ کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر گڑ گاؤں میں پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے عبادت گاہوں کو نہ تو بننے دینا ہے اور نہ ہی انہیں عبادت کی اجازت دینی ہے ۔ اتوار کو ہریانہ کے سونی پت کے گاؤں ساندل کلاں میں تقریباً 20 لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور نماز ادا کرنے والے لوگوں پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔حملہ آور اسی گاؤں کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔
خبر کے مطابق، 15-20 مسلح افراد نے گاؤں میں ایک کمیونٹی کی طرف سے بنائی گئی ایک چھوٹی مسجد میں رمضان کی نماز ادا کرنے والے لوگوں پر حملہ کیا۔لاٹھیوں سے لیس حملہ آوروں کی تصاویر منظر عام پر بھی آچکی ہیں۔جو سیسی ٹی وی سے حاصل ہوئی ہیں ،جس میں یہ حملہ آور حملے سے قبل گاؤں کی سڑک پر ٹہلتے نظر آ رہے ہیں ۔واقعے کے پیچھے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس معاملے میں 19 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور پولس نے اس معاملے میں 16 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ واقعے میں کم از کم نو افراد زخمی ہوئے،ان میں استاذ علی، المیر، صابر علی، فریاد، عنصر علی، زلیخا، علی تاب، نرگس اور زرینہ شامل ہیں۔ زخمیوں کو علاج کیلئے سونی پت کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔سونی پت ایک بڑا صنعتی علاقہ ہے اور پولس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گاؤں میں پولس تعینات کردی گئی تھی ۔اتوار کو ہی ایسے ایک واقعہ کی خبر جھارکھنڈ سے بھی آئی ۔
تازہ خبر ہے کہ جھارکھنڈ کے جمشید پور ضلع میں تشدد کے بعد دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ پیر (10 اپریل) کی صبح سیکورٹی فورسز نے تشدد سے متاثرہ علاقے میں فلیگ مارچ بھی کیا۔وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے مطابق، اتوار کو افطار پارٹی کے دوران نقاب پوش ہجوم نے ایک مندر پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی۔اس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ اس افطار پارٹی کا اہتمام وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے کیا تھا۔
یہ الزام ہے کہ ایک پرتشدد ہجوم نے ایک مندر پر حملہ کیا اور اس کے آس پاس کی دو دکانوں کو نذر آتش کر کے پتھراؤ کیا۔ ایک آٹورکشا کو بھی آگ لگا دی گئی۔ پولس نے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے اور بڑی تعداد میں جوانوں کو موقع پر تعینات کیا گیا ہے۔ ہندو تنظیموں نے انتظامیہ پر یکطرفہ کارروائی کا الزام لگایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمشید پور کے شاستری نگر کا ہے۔ تشدد کے دوران مذہبی نعرے لگانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ واضح ہو کہ ہفتہ 8 اپریل کو ایک مذہبی جھنڈے پر گوشت کا ٹکڑا باندھنے پر تنازع شروع ہو گیا تھا۔ ہندو تنظیموں نے مذہبی پرچم کی بے حرمتی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہندو تنظیموں کے احتجاج کی خبر آتے ہی دیگر برادریوں کے لوگ بھی جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تاہم پولس نے موقع پر پہنچ کر معاملہ کو ختم کرایا۔
اتوار کے تشدد سے سب سے زیادہ متاثر کڈما کا علاقہ ہے ۔ افواہ کو روکنے کے مد نظر پولس نے علاقہ کے انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ جمشید پور کے ایس ایس پی پربھات کمار نے کہا کہ کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جمشید پور کے ڈی سی نے سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی گمراہ کن اور اشتعال انگیز چیزیں شیئر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر وی ایچ پی کے جمشید پور کے ضلع افسر سنجیو کمار کا کہنا ہے کہ 9 مارچ کو پون کمار اور ببن رائے نامی جے ایم ایم کے دو لیڈروں نے مندر کے ساتھ والے علاقے میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا جسے تشدد کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس افطار پارٹی سے ہی ایک نقاب پوش ہجوم نے پہلے مندر پر پتھراؤ کیا اور بعد میں آس پاس کی دکانوں کو نذر آتش کیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنجیو کمار نے انتظامیہ پر یکطرفہ کارروائی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے ہندوؤں کو رام نومی پر ڈی جے وغیرہ نہ بجانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بجائے اس کیلئے ڈی جے سیشن بھی کروائے گئے۔ لیکن، ہفتہ (8 اپریل) کو مندر کے پرچم کے کھمبے پر گوشت کا ایک ٹکڑہ لٹکا ہوا پایا گیا۔ سنجیو کمار کا کہنا ہے کہ ‘عید کی آمد کی وجہ سے انتظامیہ دوسری طرف کے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کتر رہی ہے۔ ہندو فریق سے تقریباً 10 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں وی ایچ پی کے پروپیگنڈہ سربراہ اتم داس اور بجرنگ دل سٹی کنوینر شامل ہیں۔ کئی دوسرے ہندو رہنماؤں کو گرفتار کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ ہندو یہاں آسان ہدف ہیں۔واضح ہو کہ ہریانہ میں خود بی جے پی کی حکومت ہے لیکن یہاں بھی بی جے پی کے لوگ خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ مختلف ایسی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کو محسوس ہو رہا ہے کہ اسے زبردست نقصان ہوسکتا ہے وہاں بجرنگ دل کو سرگرم کر دیا ہے تاکہ وہ نفرت کا ایسا ماحول خلق کرے کہ عام لوگ اپنے بنیادی مسائل بھول کر مذہبی اشتعال انگیزی کا شکار ہو کر بی جے پی کو ووٹ دینے کیلئے مجبور ہو جائیں ۔حالانکہ بہار میں جس طرح نتیش کمار نے فوری ایکشن لے کر نفرت پھیلانے والوں کا حوصلہ توڑ دیا ہے اور فسادیوں کے خلاف وہاں پولس ایکشن جاری ہے۔ اسی طرح کا ایکشن جھارکھنڈ میں میں بھی لیا جا جاسکتا ہے ۔لیکن ہریانہ میں یہ ممکن نہیں ہے لہٰذا یہاں قانونی کارروائی پر ہی بھروسہ کرنا ہوگا۔












