سرینگر،26مئی سماج نیوزسروس:جھیل ڈل میں جمعہ کی صبح ہزاروں مچھلیوں کو پُر اسرار طور پر مردہ پایا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں میں سراسمگی پھیل گئی جبکہ متعلقہ محکمہ نے اس معاملے کی جانچ پڑتال شروع کردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کے مطابق جمعہ کے روز جھیل ڈل میںلوگوں نے سینکڑوں مچھلیوںکو پُر اسرار طور پر پانی کی سطح ُپر مردہ پایا ۔ ذرائع نے بتایا کہ سرینگرڈل جھیل میں ہزاروں مچھلیاں مردہ پائی گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرمل اسٹریٹیفکیشن کی وجہ سے بڑے پیمانے پر موت واقع ہوئی ہے۔ڈل جھیل کے اطراف میں رہنے والے ہزاروں مردہ مچھلیوں کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوںنے بتایا کہ ہمیں ڈل کے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں مردہ مچھلیاں ملی ہیں۔ جھیل میں ایک چشمے کے قریب سے بدبو آ رہی ہے،‘‘ ایک مقامی رہائشی منظور احمد نے کہاکہ اس طرح سے مردہ مچھلیوں کا ملنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی زہریلی گیس کے اخراج سے ہلاک ہوئیںہیں۔ ادھر محکمہ ماہی پروری کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ تھرمل اسٹریٹیفکیشن کی وجہ سے ہوا ہے – جھیل میں مختلف گہرائیوں میں درجہ حرارت میں تبدیلی آسکتی ہے جسکی وجہ سے زہریلی گیس کا اخراج ہوتا ہے ۔ ادھرفشریز کے ڈین فیروز احمد بھٹ نے کہا کہ جھیل میں آکسیجن کم ہونے کی وجہ سے مچھلی کی موت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آلودگی اور گھاس پھوس کے بڑھنے سے جھیل میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی نگین جھیل میں ایسا ہوا ہے۔یہاں یہ باقابل ذکر ہے کہ جی ٹونٹی اجلاس سے قبل جھیل ڈل میں بڑے پیمانے پر صفائی مہم شروع کی گئی تھی اور جھیل کے بڑے حصے کو صاف کرکے وہاں سے گھاس پھوس نکالا گیا تھا اور محض کچھ ہی دنوں میں دوبارہ گاس اُگنا ناممکن ہے ۔اس ضمن میں مقامی لوگوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک جاکر معاملے سے معلق اصل حقائق کو سامنے لایا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جھیل ڈل میں ایک عجیب سی دکھنے والی مچھلی بھی پائی گئی تھی اور دونوں معاملوں میں مماثلت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔












