نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی جانب سے نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد ذہنی دباؤ میں مبتلا طلبہ کو حوصلہ دینے کی کوشش کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دو دن قبل اروند کیجریوال کی جانب سے کی گئی اپیل کو نہ صرف 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا بلکہ ہزاروں طلبہ نے اپنے جذبات اور نیٹ امتحان کو شفاف بنانے کے حوالے سے تجاویز بھی ان کے ساتھ شیئر کیں۔ طلبہ کی جانب سے ملنے والے زبردست ردعمل کو منگل کے روز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے انہیں کامیابی کا منتر دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ تمام طلبہ یہ عزم کریں کہ انہیں ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہے۔ اپنے ارادے کو مضبوط رکھیں۔ آپ کا یہی پختہ عزم آپ کے ڈاکٹر بننے کے راستے کو آسان بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 21 جون کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان میں شامل ہونے والے طلبہ کے لیے پنجاب میں حکومت مفت بس سروس فراہم کرے گی۔ منگل کو ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے نیٹ امتحان دینے والے طلبہ سے کہا کہ دو دن پہلے میں نے نیٹ امتحان کے بارے میں ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں آپ لوگوں کے جذبات اور تجاویز طلب کی تھیں۔ اب تک 50 لاکھ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ چکے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں آپ کے کمنٹس اور پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے دل کے جذبات شیئر کیے ہیں۔ آپ نے مجھ پر اتنا بھروسہ کیا، اس کے لیے میں آپ سب کا بے حد شکر گزار ہوں۔ بہت سے لوگوں نے شکریہ ادا کیا ہے۔ سجاتا سوجی کہتی ہیں: تھینک یو سر، آپ ہی واقعی طلبہ کی فکر کرتے ہیں۔ راہل نائک کہتے ہیں:سر، ہمیں واقعی اس وقت اس سپورٹ کی ضرورت تھی۔ تھینک یو کیجریوال جی۔ میں پوچھتا ہوں کہ شکریہ کس بات کا؟ آپ سب تو میرے بچے ہیں۔ میرے بھی دو بچے ہیں اور دونوں نے آئی آئی ٹی دہلی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اگر ان کے امتحانات منسوخ ہو جاتے تو میں ان کے لیے بھی یہی کرتا اور ان کے لیے بھی لڑتا۔ آپ سب میرے بچے ہیں، اس لیے میں آپ کے لیے بھی اسی طرح لڑ رہا ہوں جیسے اپنے بچوں کے لیے لڑتا۔اروند کیجریوال نے کہا کہ کچھ بچوں نے اپنے بہت گہرے جذبات شیئر کیے ہیں۔ جیسے ابو بشر لکھتے ہیں: ہیلو سر، یہ میری تیسری کوشش ہے۔ میں نے 2024 میں ڈیڑھ لاکھ روپے کوچنگ فیس دے کر امتحان دیا تھا۔ اچھے نمبر آئے، لیکن تب بھی پیپر لیک ہو گیا۔ اس سال صرف سیلف اسٹڈی سے امتحان دیا۔ امتحان اچھا گیا اور گھر والوں کے ساتھ جشن بھی منایا، لیکن پیپر منسوخ ہو گیا۔ سچ میں سر، میں بہت ڈپریشن میں ہوں۔ وکاس یادو لکھتے ہیں: یہ میری پانچویں کوشش تھی۔ میں نے اس امتحان کے لیے بہت محنت کی تھی۔ پچھلے دو مہینوں میں کبھی کبھی صرف تین گھنٹے سویا تھا۔ 3 مئی کے امتحان کے لیے ہم ذہنی طور پر تیار تھے، اب 21 جون کے لیے حوصلہ کہاں سے لاؤں سر؟ ایک طالب علم نے لکھا: اب مجھ میں ہمت نہیں بچی۔ یہ کیا بات ہوئی بچے؟ ہمت نہیں بچی کا کیا مطلب ہے؟ اروند کیجریوال نے طلبہ کو ایک منتر دیتے ہوئے کہا کہ اپنا ارادہ مضبوط کر لو کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہی بننا ہے، ہر حال میں بننا ہے۔ چاہے کتنی ہی مشکلات آئیں، چاہے کتنا ہی جدوجہد کرنا پڑے۔ ایک بار جب آپ پختہ ارادہ کر لیتے ہیں تو اس کائنات کی تمام طاقتیں آپ کی مدد کرتی ہیں اور خدا بھی آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ آپ سب ڈاکٹر بنو گے۔ کسی بھی حال میں ہمت نہیں ہارنی ہے۔ 21 جون کے امتحان کی اچھی تیاری کرو۔اروند کیجریوال نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے مجھے لکھا کہ سر، کیا پیپر لیک ہونا بند ہو سکتا ہے؟بالکل ہو سکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی دہلی میں 10 سال حکومت رہی، ایک بھی پیپر لیک نہیں ہوا۔ پنجاب میں 4 سال سے حکومت ہے، وہاں بھی ایک بھی پیپر لیک نہیں ہوا۔ ایسا اس لیے کیونکہ ہم ایماندار لوگ ہیں۔ اگر نظام کے اوپر بیٹھے لوگ ایماندار ہوں تو پیپر لیک نہیں ہوں گے، لیکن اگر اوپر بیٹھے لوگ بے ایمان اور بدعنوان ہوں تو روز پیپر لیک ہوں گے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ کچھ بچوں نے لکھا: سر، ہمارے پاس بس کا کرایہ دینے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے میں بدھ کو پنجاب جا رہا ہوں اور وزیراعلیٰ بھگونت مان سے بات کروں گا۔ کم از کم پنجاب میں جس دن آپ کا امتحان ہوگا، ہم بسوں میں آپ کے آنے جانے کا خرچ مفت کر دیں گے۔ ہمت مت ہاریے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور خدا آپ کے ساتھ ہے۔ آپ سب ضرور ڈاکٹر بنیں گے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس پر کہا کہ پیارے نیٹ طلبہ، آپ کے بے شمار پیغامات اور آپ کے جذبات کی گہرائی نے مجھے بہت جذباتی کر دیا ہے۔ آپ نے مجھ پر جو اٹل بھروسہ ظاہر کیا ہے، اس کے لیے میں آپ سب کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس وقت پوری مضبوطی کے ساتھ ڈٹے رہیں۔ آج ہی یہ پختہ عزم کریں کہ ہم ڈاکٹر بن کر ہی رہیں گے۔ ہماری دعا ہے خدا آپ سب کو کامیابی دے۔












