ناظم منصوری
مرادآباد،سماج نیوز سروس: انجمن تعمیر انسانیت کے زیر اہتمام کانٹھ روڈ پر واقع کلفٹن شادی ہال میں تعمیر انسانیت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس کانفرنس کا مقصد علماء اورسیاسی و سماجی دانشوروںکے درمیان باہمی رابطہ بناکر انسانیت کے پیغام کو عام کرناتھا،ساتھ ہی مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی کی وفات پر تعزیت بھی پیش کی گئی۔ کانفرنس میں شہر اورقرب و جوار کے علماء اور اہل مدارس کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات اور معززین شہر نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت نائب امام شہر مفتی سید فہد علی نے کی،مہمان خصوصی کے طور پر مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی ؒ کے فرزند مولانا عبد المالک مغیثی مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ نے شرکت کی۔کانفرنس کا آغازتلاوت کلام پاک سے جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی کے استاذ قاری لیاقت حسین نے کیا ، بعدہ نعت رسول مقبولؐ انجمن دعوت القرآن کے صدر قاری مہر عالم حیاتی نے پیش کی۔ نظامت کے فرائض تمیم احمد نسیمی نے انجام دئیے۔ مہمان خصوصی مولانا عبد المالک مغیثی نے اپنے خطاب میں مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی ؒ کی حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے آج کے اس پر فتن دور میں ان کی تعلیمات کے ذریعہ معاشرے کو سدھارنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کو اپنی زندگی حضور اکرمؐ کی تعلیمات کے مطابق گزارنی چاہئے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے سبھی مقررین نے موجودہ دور میں انسانیت کو فروغ دینے اور اس کے تئیں عوام کو بیدار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیکی کے راستہ پر چل کر ہی انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ملت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ دینی تعلیم کو اپنائیں شریعت کے مطابق زندگی گزاریں اس کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ انسانیت کا بول بالا ہو، اور لوگ ایک دوسرے سے خوف کھانا چھوڑ دیں۔ آخر میں کانفرنس کے کنوینر انجینئر حاجی سلیم اختر نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ سبھی حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرنے اور شرکت کرنے والوں میں مولانا صغیر احمد قاسمی، شیخ الحدیث مفتی زعیم احمد قاسمی نسیمی، مفتی محمد رضوان قاسمی، مولانا اسلم قاسمی، مرزا ارشد بیگ،وصی احمد ایڈو کیٹ، قاری اشرف، مولانا تنزیل الرحمن، حسنین اختر شمسی، حاجی اشرف علی، صفدر نیازی، ڈاکٹر محمد سرفراز، مفتی محمد شاداب، ،مولانا یاسین، حافظ محمد صابر، حاجی آصف علی، رئیس احمد ،منصور احمد، محمد ارمان ترکی، مولانا خورشید، مفتی محمد اعظم، مفتی محمد ندیم، مولانا کفیل ندوی، مولانا محمد یوسف، ڈاکٹر عارف رحمن، قاری محمد عرفان، ڈاکٹر راحت زماں خاں، سید آصف حسن، قاری محمد جنید،فیروز خاں، ساحل شمسی، سید انور علی، تنظیم شاستری،زبیر علی ایڈو کیٹ، شاہد جمال ایڈو کیٹ، عبد الرحمن ایڈو کیٹ،قاری محمد کامل، مولانا مطیع اللہ، نوشاد ایڈو کیٹ کے علاوہ کافی تعداد میں علماء اور معززین شہر موجود تھے۔












