دیوبند،سماج نیوز سروس: نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ نے نجی اسکولوں کی من مانی پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اب طلبہ اور والدین کے مفادات سے کسی بھی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کلکٹریٹ میں ایک میٹنگ کے دوران ضلع مجسٹریٹ منیش بنسل نے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای سے وابستہ اسکولوں کے منتظمین اور پرنسپل حضرات کو دو ٹوک ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ ڈی ایم نے ‘‘اتر پردیش خود مالیاتی تعلیمی ادارہ فیس ضابطہ قانون’’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر اسکول کے لیے لازمی ہے کہ وہ فیس میں کسی بھی اضافے سے کم از کم ۰۶ دن قبل اپنی مکمل فیس اسٹرکچر جاری کرے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ضلع کے 60 سے زائد اسکولوں نے ابھی تک فیس اسٹرکچر جاری نہیں کیا، جس پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انہیں دو دن کے اندر اپنی ویب سائٹ پر تفصیلات اپلوڈ کرنے اور ضلع اسکول انسپکٹر کو فراہم کرنے کے احکامات دیے گئے۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسکول کسی ایک مخصوص دکان سے کتابیں خریدنے کے لیے طلبہ کو مجبور نہیں کر سکتے۔ تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی درسی کتب کی دستیابی متعدد مقامات پر یقینی بنائیں اور آن لائن سہولت بھی فراہم کریں، بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسی طرح یونیفارم کے معاملے میں بھی اہم فیصلہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ پانچ سال سے قبل کسی بھی اسکول کو یونیفارم تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر کوئی ادارہ ایسا کرنا چاہے تو اسے باضابطہ کمیٹی کے سامنے جواز پیش کر کے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ ڈی ایم منیش بنسل نے والدین اور طلبہ کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہر اسکول میں ‘‘شکایت ازالہ کمیٹی’’ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی، جس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کی نمائندگی بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسکول سطح پر مسائل حل نہ ہوں تو معاملہ براہِ راست ضلع انتظامیہ یا ضلع اسکول انسپکٹر کے سامنے رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسکولی گاڑیوں کی سیکیورٹی پر بھی خصوصی زور دیتے ہوئے ڈی ایم نے ہدایت دی کہ تمام اسکول اپنی گاڑیوں کی فٹنس لازمی حاصل کریں اور یکم اپریل سے شروع کیے گئے نئے پورٹل پر تمام گاڑیوں کا اندراج کریں۔ اے آر ٹی او کے ذریعے وقتاً فوقتاً ان گاڑیوں کی جانچ کی جائے گی تاکہ طلبہ کا سفر محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ کسی بھی اسکول کی جانب سے کی جانے والی لاپروائی ناقابل برداشت ہوگی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس میں چیف ڈیولپمنٹ آفیسر، ضلع اسکول انسپکٹر اور دیگر متعلقہ افسران کے علاوہ مختلف اسکولوں کے منتظمین اور پرنسپل بھی موجود رہے۔












