استنبول (ہ س)۔ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے چار ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکیہ نے شام میں کم از کم تین فضائی اڈوں کا معائنہ کیا ہے جہاں وہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی افواج تعینات کر سکتا ہے۔مذکورہ اڈوں پر اسرائیلی بم باری سے خطے میں دو طاقت ور فوجوں کے درمیان شام کے حوالے سے لڑائی چھڑنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ شام میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد ایک نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔بدھ کی شام اسرائیل نے ان تین مقامات کو شدید بم باری کا نشانہ بنایا جن کا ترکیہ نے معائنہ کیا تھا۔ اگرچہ انقرہ نے واشنگٹن کو مطمئن کرنے کی کوششیں بھی کیں کہ شام میں ترک فوجی وجود میں اضافے کا مقصد اسرائیل کو دھمکانا نہیں ہے۔انقرہ بشار الاسد کے خلاف شامی اپوزیشن فورسز کا پرانا سپورٹر ہے۔ اب وہ ان فورسز کی تشکیل نو کے بعد شام میں مرکزی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر مشترکہ دفاع کا ایک معاہدہ طے پانا شامل ہے جس کے تحت شام کے وسطی میں ترکیہ کے نئے فوجی اڈوں کا قیام اور ملک کے لیے فضائی حدود کا استعمال دیکھا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے تیاری کے سلسلے میں ترکی کی ایک فوجی ٹیم نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں شام کے صوبے حمص میں "T4” اور ترمد کے فضائی اڈوں اور حماہ صوبے میں مرکزی ہوائی اڈے کا دورہ کیا۔ یہ بات چار اہم شامی ذرائع نے بتائی۔ذرائع نے شام کے تین اڈوں پر اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تصاویر دکھائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اڈے فی الوقت کام کے قابل نہیں ہیں۔ادھر ترک وزارت دفاع کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ شام میں پیش رفت کے متعلق رپورٹوں اور پوسٹوں کو خواہ وہ حقیقت ہوں یا دعوے، جب تک سرکاری حکام کی جانب سے سامنے نہ آئیں انھیں قابل اعتبار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے کہ یہ سچائی سے محروم ہونے کے سبب گمراہ کن بھی ہو سکتی ہیں۔اس سے قبل جمعرات کے روز ترک وزارت خارجہ نے اسرائیل کو علاقائی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ترک وزیر خارجہ ہاقان فیدان نے جمعے کو کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں اسرائیل سے مقابلہ نہیں چاہتا۔یاد رہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد چار ماہ میں اسرائیل نے شام کی جنوبی مغربی اراضی پر قبضہ کر لیا، دروزی اقلیت کے ساتھ رابطے کی راہ ہموار کر لی اور شامی فوج کے پاس موجود زیادہ تر اسلحہ اور بھاری ساز و سامان کو حملوں کا نشانہ بنایا۔بدھ کے روز ہونے والا حملہ ان میں شدید ترین تھا۔ شامی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل نے 30 منٹ کے اندر پانچ مختلف علاقوں پر بم باری کی۔ اس کے نتیجے میں حماہ کا اڈا تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور درجنوں فوجی اور عام شہری زخمی ہو گئے۔اس حوالے سے بار ایلان یونیورسٹی میں مشرق وسطی کی سیاست کی ماہر نوا لازیمی نے کہا کہ اسرائیل کو خوف ہے کہ ترکیہ "ٹی 4” کے اڈے پر طیارہ شکن روسی نظام اور ڈرون طیارے نصب کر دے گا۔ مزید یہ کہ یہ اڈا ترکیہ کو خطے میں فضائی برتری حاصل کرنے میں کامیاب بنا دے گا۔ یہ اسرائیل کے لیے تشویش کا بڑا ذریعہ ہے کیوں کہ اس طرح خطے میں اس کی کارروائیوں کی آزادی پر ضرب لگے گی۔ترکیہ کے قریبی ایک سینئر سفارت کار نے بتایا کہ وزیر خارجہ ہاقان فیدان نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی ذمے داران کو بتایا تھا کہ شامی صدر احمد الشرع ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔ترکیہ میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ "اگر شام عدم استحکام سے دوچار ہوا تو اسرائیل نہیں بلکہ ترکیہ کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی”۔اس سیاق میں واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ترک تحقیقاتی پروگرام کے ڈائریکٹر سونر جاگابتائی کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل "نظریاتی تصادم کی راہ پر ہیں” … مگر وہ واشنگٹن کی ثالثی کے ذریعے فوجی تصادم سے بچ سکتے ہیں۔












