رام پور، شادی کی منڈیاںسول لائن پر افسروںکی دھمکیوں، سازشوںاور زیادتیوںسے عاجزآنے والے بوڑھے سلیم نے گزشتہ دن اپنی بیٹی کے ساتھ موت کو گلے تو لگالیا مگراس کی موت نے یوگی سرکارکے احکامات کی افسروںکے ذریعے جوارتھی اٹھتی دیکھی اس نے علاقے کے دوردرازمکینوںکوبھی بہت کچھ سوچنے پرمجبورکر د یا اوریہ باورکرادیاجس کی لاٹھی اس کی بھینس۔33سال سے تحصیل کے افسران اورملازمین آنکھےں بندکرکے خرمستیاںلینے میںلگے تھے۔موٹی کھیتی کاٹ رہے تھے اورسابق پردھان کی بلّے بلّے کرانے کے لئے غریب سماج سے جڑے 6لوگوںکی زندگی ان پر ہی حرام کردی۔سلیم کاپریوارکواب ساری زندگی تحصیل کے عملے نے رونے پرمجبور کردیا ہے۔یوگی سرکارکے احکامات ہرباشندے کو رہائشی مکان دیاجائے وہ نیلے آسمان کے نیچے زندگی نہیںگزارے گا۔تحصیل اور انتظامیہ سے جڑے افسران توچھوٹے میاںتوچھوٹے میاںبڑے میاںسبحان اللہ سے کم نہیںہیں۔ یہاںکے باشندوںکاکہناہے کہ جب زمین خریدی گئی۔ مکان تعمیرہوگیا۔تقریباََنصف صدی سے اسی گھرمیںصرف کردی توآج افسروںکویہ گھرتالاب کی سرکاری زمین پرنظرآگیا۔اس وقت کوئی اس پرروک لگانے نہیںآیا۔دو سال سے اچانک افسروںکا جن بوتل سے باہرنکل آیاہے۔ اس علاقے میںاقلیتی طبقے کے کمزور حالات کے لوگ رہتے ہیں۔ ان کے مکانات یہاںبنے ہوئے ہیں ۔ اسی میںایک مکان سلیم کاہے جو سائیکلکے پنچرجوڑکربچوںکاگزربسرکرتاتھا۔ اسی پیسے سے اس نے33سال قبل اپناگھربنایاجس کو آج تحصیل دار، لیکھ پال اور پردھان تالاب کی زمین بتارہے ہیں۔ سلیم کے اس مکان میںآج تک پلاسٹرتک نہیںہوسکاہے۔ دوسال قبل افسروںنے وہاں جاکر 6 مکانوں کو تالاب کی زمین قرار دیتے ہوئے نوٹس تھمادیاتھا۔ بے دخلی کامعاملہ درج ہونے کے بعدسے ان مکانوں میںرہنے والوںکی زندگی میں اندھیرا چھا گیا تھا۔مہلوک سلیم کی بیوہ مہتاب جہاں کا کہنا ہے کہ1990میں جس سے زمین خریدی آج تک اس پرکارروائی نہیںہوسکی ہے۔ مہلوک سلیم کے تین لڑکے اورپانچ لڑکیاں ہیں۔ایس ڈی ایم نرنکار سنگھ کا کہنا ہے کہ سلیم کاپریوار کافی وسیع تھااس لئے وہ تنگی سے جوجھ رہاتھا۔ بیٹابھی تھیلی سیمیاکے مرض میں مبتلا تھا۔اگراس کو مکان کا ڈر تھا تو وہ 2021 میں زہرخورانی کا قدم اٹھاتا۔ زہرکھانے کی اصلی وجہ معاشی تنگی ہے۔جب کہ اس کو سرکاری مدد لگاتاردی جارہی تھی۔اس کے گھروالوںکوکھیتی کے لئے زمین اور رہائش کاانتظام کرکے دیا جائے گا۔تحصیل کے افسروںاورملازمین نے پیسہ جمع کیاہے جواس کے اہل خانہ کودیاجائے گا۔بیوہ کی پینشن بھی کرائی جائے گی۔ دیکھنایہ ہے اب کمشنرمرادآبادآنجنے کمارسنگھ کا مہلوک سلیم کے معاملے میںکیارویہ رہے گا؟ کیا جس طرح ان کے جذبات اس کی تنگی کودیکھ کر تھے اوروہ اس کے لئے فرشتہ بنے تھے کیاوہ بدعنوان افسروں اورتحصیل عملے کے خلاف ہونے والی جانچ اورکارروائی منصفانہ طورپرکرائیںگے؟ واضح کردیںجیسے ہی معصوم بیٹی اوربوڑھے باپ کی لاشیں گھر پہنچیںتوپورے علاقے میںکہرام مچ گیا۔ ہرطرف رونے اورچیخنے کی آوازیںسنائی دینے لگی۔












