چنڈی گڑھ (یو این آئی) شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے صدر سمرن جیت سنگھ مان نے بدھ کو کہا کہ ہماچل پردیش کے ڈلہوزی میں ایک سکھ نوجوان اور ایک ہسپانوی خاتون پر حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف ہماچل حکومت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کرے ۔ مسٹر مان نے کہا کہ ہماچل پردیش کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو کا اس واقعہ کے حوالے سے دیا گیا بیان تسلی بخش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعہ کے اگلے ہی دن چنبہ میں چنڈی گڑھ کے ایک پولیس افسر کے ساتھ بدسلوکی کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) سے کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چمبہ کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور ان فرقہ وارانہ مذہبی حملوں کے پیچھے ہماچل پردیش کے باشندوں کی کیا سازش ہے ، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔












