صادق شروانی
نئی دہلی:رمضان کے مقدس مہینے میں سعودی عرب کے نئی دہلی سفارت خانے کا ایک ایسا فرمان جس سے بھارت بھر میں سفارت خانے سے آتھورائز اورمنسٹری آف ایکسٹرنل افیئرس گورمنٹ آف انڈیا سے رجسٹرڈ ٹور اینڈ ٹریولس،اور ٹریولس سے جڑے لاکھوں لوگوں کا کاروبار ختم ہوتے نظر آرہا ہے۔سعودی عرب سفارتخانہ کی جانب سے وی ایف ایس (ویزا فسلیٹیشن سروس) گلوبل کے نافذ ہونے سے مین پاورایجنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک بھولے بھالے غریب ناسمجھ اور ان پڑھ جیسے لوگ عمرے پر نہیں جاسکیں گے۔ کیوں کہ کسی بھی غیر ملکی ایجنسی پر اتنی جلدی بھروسہ کرنا ممکن نہیں ہے چونکہ جو کام ان کا محض پانچ سے سات ڈالر میں ہوجاتا ہے وہی کام اس وی ایف ایس کے نفاذ کے بعد 25ڈالر لیاجائے گا۔ اور یہ شروعاتی دور ہے بعد میں یہی وی ایف ایس اپنے من مانے طریقے سے رقم وصول کرے گی۔ ہندوستان جیسے ملک میں جسے عمرہ کرنے جانا ہے وہ وی ایف ایس کو کہاں تلاش کرے گا۔ جبکہ مین پاور ایجنٹ کا حج عمرہ پر جانے والے زائرین سے ذاتی رشتہ ہے اورہم لوگ عمرہ کےلئے ویزا آسان سے دستیاب کرادیتے ہیں۔ جبکہ وی ایف ایس کے بعد ٹوریسٹ ویزا مکمل طور پر ختم ہوجائے گا ۔واضح ہوکہ نئی دہلی میں سعودی عربیہ کے سفارت خانے کے ویزا سیکسن نے 24مارچ 2023 کو ریکروٹنگ ایجنٹس کے نام ایک سر کلر جاری کیا۔جس میں کہا گیا کہ 3/4/2023سے تمام پاسپورٹ جیسے سیاحتی ویزا،بزنس ویزا، فیملی ویزا،ذاتی دورے، طالب علم اور دوبارہ داخلے کے ویزا بذریعہ وی ایف ایس (VFS) آفس سے سفارتخانے جمع کرائے جائیں گے۔اور نوٹس میں یہ بھی لکھا ہے کہ مذکورہ ویزوں کی کوئی بھی کیٹیگری کسی بھی دفتر میں پڑی ہوئی ہے، تو اسے 2 ہفتوں کے اندر یعنی 19 اپریل 2023 سے پہلے جمع کرانا ضروری ہے۔ اس تاریخ کے بعد، کسی بھی دفتر سے مذکورہ زمروں کا کوئی ویزا قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس سرکلر سے دہلی کے تمام ٹور اینڈ ٹریولس جو بھارت سرکار سے رجسٹرڈ اور سعودی سفارتخانے سے آتھورائز ہیں وہ کافی پریشان ہیں انہیں اپنے کاروبار ختم ہونے کے دہانے پر نظر آرہا ہے۔ دہلی کے سبھی ٹریولس ایجنسی کی مانگ ہے کہ وی ایف ایس (VFS) کو ہٹا دیا جائے۔اجارہ داری نہیں ہونی چاہئیے۔دہلی کے تمام ٹریولس ایجنسی مونوپولو کے خلاف ہیں ان کی مانگ ہے کہ جسیے چل رہا تھا ویسے چلنے دیا جائے۔جس سے لاکھوں لوگوں کو بے روزگارہونے سے بچ جائیں گے۔ سعودی سفارتخانے کوئی اور راستہ نکالے جس سے اس کاروبار سے جڑیے لاکھوں لوگوں کا مستقبل پر کوئی آنچ نہ آئے۔ دہلی ٹریولس ایجنسی ابھی اس سرکلر سے متعلق اپنے کاروبار کو بچانے کے لئے سعودی سفیر ایکسلنسی ڈاکٹر صالح بن عید الحسینی سے ملیں گے اور اپنی بات ان کے سامنے رکھیں گے۔جبکہ آج دہلی کے ٹریولس ایجنسی کے مالکان نے سعودی سفارتخانے کو میمورنڈم دیا۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی ایمبسی وی ایف ایس (VFS) کو اس طرح ہائی کرلے جس طرح اور ایجنسی کو آتھورائز کیا ہوا ہے۔لیکن دہلی کے تمام ایجنسی وی ایف ایس (VFS)کو اجارہ داری دینے کے خلاف ہیں۔ان ایجنٹس کو وی ایف ایس نظر انداز کرے گی اور عمرے پر جانے والے لوگ وی ایف ایس کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ باہر کمپنی کو یہ کام سونپا گیا ہے واضح رہے کہ وی ایف ایس کو دیگر کئی ممالک نے ہائر کیا ہے اور ویزے کی تمام کارروائی اسی کے سپرد کردی ہے لیکن کناڈا اور دیگر ملکوں کےلئے یہ سروس کام کرتی ہے وہاں جانے سے پہلے باقاعدہ انگلش کی جانکاری ہونا ضروری ہے جبکہ عمرے کےلئے کوئی ایسی شرط نہیں ہے۔ بغیر پڑھالکھا بھی عمرے کی سعادت حاصل کرتا ہے جبکہ وی ایف ایس کے نفاذ کے بعد ان لوگوںکےلئے ضروری کاغذات جمع کرنا مشکل ہوجائے گا اور شاید یہ لوگ اب عمرہ کرنے کی ہمت نہ جٹاپائیں۔حالانکہ یہ ایمبسی کا اندرونی معاملہ ہے بتایا جاتا ہے کہ یہ سعودی حکومت کے ذریعہ نافذ کیاگیا ہے۔












