نئی دہلی ، آل انڈیا مسلم مجلس کے قومی صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد نے یوپی پولیس کی کسٹڈی میں عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کے قتل پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ دراصل یوپی پولیس وزیر اعلیٰ یوگی کے مٹی میں ملانے کے حکم پر عمل کررہی ہے ۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ حیرت ہے کہ تین قاتل لگاتار سترہ اٹھارہ گولیاں چلاتے رہے لیکن پولیس نے قاتلوں پر ایک بھی گولی نہیں چلائی۔جب انہوں نے قتل کرکے ہاتھ اوپر اٹھادئے اس کے بعد پولیس والو ں نے گرفتار کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ دوسری بات یہ بھی اہم ہے کہ آخر پولیس نے تفتیش کے لئے قاتلوں کو ریمانڈ پر کیوں نہیں لیاجبکہ اس واردات کی تہہ تک پہنچنا ابھی باقی ہے ۔اس سے پہلے عتیق کے نوجوان بیٹے اسد اور اس کے ساتھی کے مارے جانے پر بھی پولیس پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ اسد کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور امیش پال کے قتل کی ایف آئی آر میں بھی اس کا نام نہیں تھا بعد میں ایک ویڈیو کلپ میں کہا گیا کہ دکھائی دینے والا شخص وہی ہے جبکہ اس ویڈیو کلپ کی ابھی تک عدالتی جانچ بھی نہیں ہوپائی ہے ۔اسد قانون کا طالب علم تھا۔ یوپی حکومت اس کا بھی جواب دے کہ عتیق کے دو چھوٹے بیٹوں کو پولیس نے کیوں گرفتارکرکے رکھا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر بصیر نے کہا کہ قاتلوں نے قتل کے بعد جے شری رام کے نعرے لگائے یہ بات بہت تشویش کا باعث ہے کہ آخر بی جے پی راج میں اس نعرے کو کیا بنادیاگیا ہے ۔بی جے پی کے ایک وزیر نے ا س قتل کو آسمانی فیصلہ قرار دیا ہے ۔ ہمارا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کو بھی آسمانی فیصلے سے ڈرنا چاہیے ۔ ظلم اور ناانصافی کی عمر زیادہ لمبی نہیں ہوتی۔ زیادہ دنوں تک لوگوں کو ڈرادھمکا کر نہیں رکھا جاسکتا اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔












