نئی دہلی :7مارچ /سماج نیوز سروس ۔2024 لوک سبھا انتخابات میں اب صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ ایسے میں تمام پارٹیاں اپنی اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دو لوک سبھا انتخابات میں بری طرح ہارنے والی کانگریس اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے کئی علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود رائے شماری میں کانگریس کو زبردست نقصان ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے ۔ انڈیا ٹی وی-سی این ایکس اوپینین پول کے مطابق، کانگریس پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپنی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ دراصل رائے عامہ کے سروے میں کانگریس کو صرف 37 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کانگریس کی تاریخ کی بدترین کارکردگی ہوگی۔اس سروے میں انڈیا الائنس کے صرف 98 سیٹوں تک محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔سروے میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت سے مقابلے کے لیے بننے والامحاذ صرف 98 سیٹوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا ۔ ساتھ ہی بی جے پی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے)کے 378 سیٹیں جیتنے کا امکان ہے۔رائے عامہ کےجائزے کے مطابق گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، دہلی، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں بی جے پی جیتتی نظر آرہی ہے۔سروے کے مطابق بی جے پی ان تمام ریاستوں میں کلین سویپ کر سکتی ہے۔ اوپینئن پول کے مطابق یوپی میں بی جے پی کو سب سے بڑی جیت مل سکتی ہے۔ یہاں بی جے پی کو اپنے بل بوتے پر 74 سیٹیں جیتنے کی امید ہے۔ ساتھ ہی این ڈی اے میں شامل آر ایل ڈی اور اپنا دل بھی ایک ایک سیٹ جیت سکتے ہیں۔ سروے میں سماجوادی پارٹی،کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کو ایک ایک سیٹ ملنے کی امید ہے۔واضح ہو کہ 2019 کے انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی 2014کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے صرف 42 سیٹیں حاصل کیں، جب کہ 2019 میں اس نے اپنی کارکردگی بہتر کرتے ہوئے 52 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ تاہم، رائے عامہ کے جائزوں میں ایسا لگتا ہے کہ کانگریس آئندہ عام انتخابات میں اپنی اب تک کی بدترین کارکردگی درج کرا سکتی ہے۔












